
گلگت بلتستان میں پہلی مرتبہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت پہلے منصوبے کی منظوری دیدی گئی، نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان میر افضل کی زیر صدارت پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ بورڈ کا پہلا اجلاس ہوا جس میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت سینٹرل ہنزہ میں AKFED کے اشتراک سے 2.8 میگاواٹ پاور پروجیکٹ کی تعمیر کی اصولی منظوری دی گئی اور صوبائی سیکریٹری پلاننگ کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو کازیشن ایگریمنٹ (Causation Agreement) پر غور و خوص کر کے قابل عمل بنانے کیلئے اپنی سفارشات متعلقہ فورم میں پیش کرے گی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان میر افضل نے کہا کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کو تمام شعبوں میں فروغ دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جی بی میں توانائی کے منصوبوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ وزیر اعظم پاکستان سے بھی جی بی میں ریجنل گرڈ کے قیام اور نیشنل گرڈ سے جی بی کو منسلک کرنے پر بات ہوئی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم جیسے بڑے منصوبے تعمیر ہو رہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں ریجنل گرڈ کا قیام اور نیشنل گرڈ سے منسلک ہونے سے صوبے میں سستی بجلی پیدا کرنے کے وسیع مواقع سے استفادہ حاصل کیا جاسکے گا۔


































