
قاری زوار نے مولانا اشرف جلالی کی رہائی کیلئے مظاہرے میں شیعوں کیخلاف مغلظات بکیں اور ایک بار پھر ایام عزا کے جلوسوں کو روکنے کی دھمکی دی
پولیس نے ریلی کے بعد مولوی کو پکڑ کر اندر کردیا،حامیوں کا احتجاج، قاری زوار بہادر کا جے یو پی سے کوئی تعلق نہیں، صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر
لاہور (نیوز ڈیسک) جلوس عزا روکنے کی دھمکی دینے والے قاری زوار بہادر دہشت گردی کے الزام میں اندر ہوگیے جبکہ ان کی اپنی جماعت جمعیت علمائے پاکستان نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے ،جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل قاری زوار بہادر کیخلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے، کارکنوں کے شیعہ مخالف جذبات ابھارنے، شیعہ عقائد پر تنقید کرنے اور فورتھ شیڈول میں شامل ملزم کی حمایت کرنے کے جرم میں لاہور پولیس نے تھانہ سی ٹی ڈی میں مقدمہ درج کیا ہے ، قاری زوار بہادر کیخلاف 290 اور 291 تعزیرات پاکستان 1997 اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، قاری زوار بہادر نے لاہور میں ایجرٹن روڈ پر تحریک لبیک کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شیعوں کو امام حسین علیہ السلام کا قاتل قرار دیا اور دھمکی دی کہ اشرف آصف جلالی کو جلد رہا نہ کیا گیا تو یوم عاشور کے موقع پر محرم کے تمام جلوسوں کو نکلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ،پولیس نے شرپسند مولوی کو گرفتار کرلیا، لاہور پولیس نے قاری محمد زوار بہادر کو تنظیمات اھلسنت کی ریلی کے اختتام کے بعد حراست میں لیا اور تھانہ گڑھی شاہو پہنچا دیا،تحریک لبیک یارسول اللہ کے کارکنوں نے تحریک کے سربراہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی، قاری زوار بہادر، مفتی شاہد رفیق اور مولانا سلیم فیضی کی رہائی کیلئے لاہور پریس کلب سے پی آئی اے آفس تک احتجاجی ریلی نکالی مقررین کا کہنا تھا کہ صحابہ کی توہین کرنیوالوں کو گرفتار کیا جائے اور ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کو فی الفور رہا کیا جائے، ہم حکومت کے اہلسنت کو دیوار کیساتھ لگانے کے اقدام کی مذمت کرتے ہیں،ادھر جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ اور ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا ہے کہ ملی یکجہتی کونسل نے شیعہ سنی تصادم سے ملک کو بچایا ہے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کی ہے، عقیدے کا اختلاف موجود ہے، علمی مسائل کو علمی انداز سے حل ہونا چاہیے، مختلف مکاتب فکر کے درمیان اشتعال انگیزی سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، قاری زوار بہادر کے محرم کے جلوس روکنے کی دھمکی کے حوالے سے کئے گئے سوال پر ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ قاری زوار بہادر کا جے یو پی سے کوئی تعلق نہیں، نہ ہی وہ ہمارے عہدے دار ہیں، قاری زوار بہادر کی اشتعال انگیز باتوں سے بھی ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قاری زوار بہادر نے جب پہلی بار محرم کے جلوسوں کو روکنے کے حوالے سے دھمکی دی تھی تو ان سے رابطہ کر کے اشتعال انگیزی سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا، لیکن انہوں نے ہماری تجویز کو تسلیم نہیں کیا اور دوبارہ لاہور میں ریلی سے خطاب میں اہل تشیع کے جذبات مجروح کئے جن کی مذمت کرتے ہیں۔


































