رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تہران کی تاریخی، یادگار اور با عظمت نماز جمعہ میں حاج قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کے پیکر مطہر کی تشییع میں ایرانی عوام کے معجزنما حضور اور سپاہ اسلام کی جانب سے عین الاسد میں امریکی ایئر بیس پر بھر پور حملے کو دو سبق آموزاور فیصلہ کن ایام اللہ قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی عوام نے شیاطین کے مقابلے میں اپنی اس عظیم شرکت اور استقامت کے ذریعہ واضح کردیا کہ ایرانی قوم کی عزت اور عظمت تمام شعبوں میں مضبوط و مستحکم اور قوی ہونے کی راہ پر گامزن رہنے کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے نماز جمعہ کے پہلے خطبہ میں پرہیزگاری اور تقوی الہی کی سفارش کی اور اللہ تعالی کی نصرت، مدد، الہی توفیقات اور ذاتی اور سماجی مسائل کے حل میں تقوی کی اہمیت کو اجاگر کیا اور پھر سورہ ابراہیم کی ایام اللہ کو یاد دلانے کے بارے میں آیات اور اللہ تعالی کی ان نعمتوں کے بارے میں شکر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اپنی بحث کا آغاز کیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عوام کو ایام اللہ کی یادآوری کے سلسلے میں حضرت موسیٰ (ع) کے نام اللہ تعالی کے حکم کی طرف اشارہ کیا اور ایام اللہ کو صبار اور شکور بندوں ” یعنی صبر اور استقامت دکھانے والے افراد ” کے لئے بڑی اہمیت کا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: صبار یعنی وہ لوگ جو صبر و استقامت کا پیکر اور مرقع ہیں اور وہ کسی معمولی چیز کی بنا پر میدان نہیں چھوڑتے ہیں اور شکور وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالی کی نعمتوں کو پہچان کر اور ان کے ظاہری اور مخفی پہلوؤں کو دیکھ کر ان کے قدر داں ہوتے ہیں اور اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں کے مقابلے میں ذمہ داری کا احساس کرتے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مورد بحث آیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ آیات مکہ میں اس وقت نازل ہوئیں جب کفر کے مقابلے میں مسلمانوں کی استقامت بام عروج پر تھی اور ان آیات میں مسلمانوں کے لئے سخت شرائط میں بشارت موجود تھی کہ اللہ تعالی تمہیں ایام اللہ عطا کریگا اور تمہارے شکر گزار اعمال کے ذریعہ تمہیں مزید کامیابیاں نصیب ہوں گی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے گذشتہ دو ہفتوں کو ایرانی قوم کے لئے تلخ اور شیریں حوادث کے دو استثنائی ہفتے قراردیا، اور شہید مجاہدین کی تعظیم اور تکریم کے سلسلے میں ایران اور عراق میں عوام کے بے مثال حضوراور جوش و خروش کو ایام اللہ سے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا: یوم اللہ، یعنی حوادث میں اللہ کی قدرت کے ہاتھ کے مشاہدہ کا دن، لہذا جس وقت ایران میں کئی ملین، عراق اور بعض دیگر ممالک میں لاکھوں افراد سپاہ قدس کے کمانڈر کے خون کا پاس و لحاظ رکھ سڑکوں پر نکل آئے اور انھیں خراج عقیدت پیش کیا اور بہترین انداز میں الوداع کیا، یہ اقدام ایام اللہ کا مصداق ہے کیونکہ اس عظمت اور شان و شکوہ کے پیچھے دست قدرت کے علاوہ کوئی اور عامل شامل نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی طرف سے امریکی ایئر بیس پر میزائل حملے کو بھی ایام اللہ شمار کرتے ہوئے فرمایا: ایران کی دلیر،طاقتور اور صابر قوم نے دنیا کی ایک مغرور، متکبر اور منہ زور طاقت کے منہ پر زوردار طمانچہ رسید کیا جو اللہ تعالی کے دست قدرت کا مظہر ہیلہذا یہ عظیم دن بھی ایام اللہ کا حصہ ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایام اللہ کو قوموں کی زندگی، روش اور منش میں جاوید، یادگار اور تاریخ ساز ایام قراردیا اور ایرانی قوم کی استقامت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی معاشرہ، صبار و شکور معاشرہ ہے، ایرانی قوم صبار اور شکور قوم ہے جو استقامت اور پائداری کے ساتھ طویل عرصہ سے اللہ تعالی کی نعمتوں پر اس کی شکر گزار اور قدرداں رہی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شہید سلیمانی کی تشییع جنازہ کے معنوی اور مادی پہلوؤں کی شناخت پر تاکید کرتے ہوئے یہ سوال بیان کیا کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے 41 برس بعد کیا اللہ تعالی کے دست قدرت کے علاوہ کوئی اور قدرت اور عامل تھا جس کی وجہ سے عشق و محبت سے لبریزعوام کا سیلاب سڑکوں پر امڈ آیا؟
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: مادی تجزیات پر اعتماد کرنے والے افراد قدرت الہی کے ہاتھ کو مشاہدہ کرنے سے عاجز، قاصر اور ناتواں ہیں، ایرانی قوم نے الہی حرکت کا مظاہرہ کیا، عظیم الشان تشییع کی، جوقوم کی باطنی پاکیزگی اور قابل قدر اور قابل تحسین معنویات کا مظہر ہے اور یہ چیز اس حقیقت کا بھی مظہر ہے کہ ایرانی قوم کی کامیابی میں اللہ تعالی کا ارادہ ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شہید سلیمانی کی تشییع جنازہ میں کئی ملین افراد کی شرکت کو حضرت امام ” خمینی (رہ) ” کے راستے پر عوام کے گامزن رہنے، ان کے ساتھ تجدید عہد کرنے اور امام (رہ) کے زندہ ہونے پر مبنی پیغام قراردیتے ہوئے فرمایا: اس واقعہ میں صہیونی میڈیا، صہیونی نیٹ ورک اور امریکہ کے دہشت گرد حکام نے ہمارے عز?ز اور عظ?م کمانڈر پر دہشت گردی کا الزام عائد کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن اللہ تعالی نے اس منظر کو اس طرح تبدیل کردیا کہ نہ صرف ایران میں بلکہ دوسرے مختلف ممالک میں بھی اس عظیم شہید پر عقیدت اور احترام کے پھول نچھاور کئے گئے ان پر درود اور سلام بھیجا گیا اور امریکہ و اسرائیل کے پرچموں کو نذر آتش کیا گیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ان حقائق کو ملک و معاشرے میں اللہ تعالی کی طرف سے اور اس کے دست قدرت کی ہدایت اور نشانی قراردیتے ہوئے فرمایا: ان مجاہدین کے پیکروں کی تشییع کے علاوہ ان کی اصل شہادت بھی آیات الہی ہے کیونکہ میجر جنرل سلیمانی پورے علاقہ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک معروف، مضبوط، قوی اور بہادر کمانڈر تھے، جن کی شہادت امریکی حکومت کے لئے دنیا بھر میں ذلت اور رسوائی کا موجب بن گئی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شہید سلیمانی کی شجاعت نیز خطرات کا مقابلہ کرنے اور دشمن کے محاصرے والے علاقہں سے دشمن کو فرار ہونے پر مجبور کرنے کے دلیرانہ اقدام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ جنگ کے میدان میں اس عظیم شہید کا مقابلہ نہیں کرسکا لہذا اس نے اس عظیم کمانڈر کو رات کی تاریکی میں چھپ کر بزدلانہ اور مجرمانہ حملے میں شہید کیا اور امریکہ کے اس مجرمانہ اقدام سے اس کا بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے مزید نمایاں اور رسوا ہوگیا۔


































