متنازع تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ کیخلاف احتجاج رنگ لے آیا، تمام مکاتب فکر سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا،پنجاب حکومت، گورنر نے بھی بل واپس بھیج دیا
بل فرقہ واریت کو ہوا دینے کی سازش ہے،وزیراعظم،حمایت نہیں کرینگے،وزیر اطلاعات، مشاورت سے پہلے بل آگے نہیں بھیجا جائے گا، چوہدری پرویزالہی کی شیعہ علما کو نسل کو یقینی دہانی
لاہور (نیوز ڈیسک) ملک میں محرم سے قبل فرقہ وارانہ فساد کی گھناونی اور خوفناک سازش ناکام ہوگئی متنازع تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ کیخلاف شیعہ جماعتوں کا احتجاج رنگ لے آیا، پنجاب حکومت نے متنازع بل کو فوری طور پر معطل کردیا، پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ تمام مکاتب فکر کے نمائندگان کی میٹنگ بلائی جائے گی، جس میں مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے گا، گورنر چودھری محمد سرور نے بل پر دستخط کے بجائے واپس پنجاب اسمبلی کو بھیج دیا ہے تاکہ اس میں ترمیم کی جاسکے، وزیراعظم عمران خان نے بھی گورنر کو ٹیلی فون کرکے ہدایت کی تھی کہ وہ تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ کو منظور نہ کریں،وزیراعظم نے کہا کہ یہ بل ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی سازش ہے، جس سے ہر صورت میں بچا جائے، ادھر وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری سے ملاقات کی، اور متنازع بل پر تحفظات کا اظہار کیا، زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ بل پر بہت ساروں کو تحفظات ہیں، انہیں دور کرنا ضروری ہے، وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے میڈیا کو بتایا کہ پی ٹی آئی حکومت کسی ایسے بل کی حمایت نہیں کرے گی، جو فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کرے، ایسی قانون سازی ہونی چاہیئے جو مختلف فرقوں کو آپس میں جوڑے، مجلس وحدت مسلمین، تحریک حسینیہ پاکستان، شیعہ علماء کونسل سمیت دیگر شیعہ جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد متنازع بل کے روح رواں اسپیکر چودھری پرویز الہیٰ نے دعویٰ کیا کہ وہ وہ تمام مکاتب فکر کے عقائد و نظریات کا دل سے احترام کرتے ہیں، شیعہ علماء کیساتھ مشاورت کے بعد بل میں ترمیم کی جائے گی اور مزید اگر تحفظات ہیں تو انہیں بھی دور کیا جائے گا، اس سے پہلے انہوں نے علامہ ساجد نقوی، مفتی منیب الرحمن، مفتی راغب نعیمی، پیر امین الحسنات شاہ، علامہ ریاض حسین نجفی ہیڈ شیعہ مدارس کونسل سمیت دیگر علماء و عمائدین سے تحفظ بنیاد اسلام بل کے متعلق ٹیلیفون پر مشاورت کی، ادھر شیعہ علماءکونسل کے وفد نے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف واحدی کی قیادت میں چودھری پرویز الہیٰ سے ملاقات کی اور متنازع ایکٹ کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، اور انہیں اپنے تحفظات پر مبنی تین صفحات پر مبنی مسودہ حوالے کیا پرویز الہی نے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اس بل کو اس وقت تک آگے نہیں بھیجا جائے گا جب تک کہ تمام مکاتب فکر اور علماء کے ساتھ مشاورت نہیں کر لی جاتی، علامہ عارف واحدی نے کہا کہ کسی بھی گروہ کو اپنے نظریات کسی دوسرے پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ہمیں امید ہے کہ بل میں موجود متنازع شقوں پر ہمارے موقف کے مطابق ترمیم کی جائے گی
- Home
- خبریں
- قومی خبریں
- تکفیریوں کو پھر شکست، فرقہ وارانہ بل معطل، دوبارہ منظور…
تکفیریوں کو پھر شکست، فرقہ وارانہ بل معطل، دوبارہ منظور کرانا ہوگا
-
Ilyas - جولائی 30, 2020
- قومی خبریں
- 8
- 0 minute read


































