جب تک یہ کالا قانون واپس نہیں لیا جائے گا، اس وقت تک احتجاج جاری رہیگا، جب عوام بیدار ہوتے ہیں،تو سرکار گھٹنے ٹیکنے پرمجبور ہو جاتی ہے،کولسے پاٹل
اترپردیش میں بورڈ کے امتحانات میں شہریت ترمیمی قانون مخالف تحریک میں شامل بچیوں کاامتحانات میں بیٹھنے سے انکار،ریاست کے کئی مقامات پرمتنازعہ شہریت قانون کے خلاف احتجاج جاری
نئی دہلی (نیوزڈیسک)سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف بھارت کے کئی شہروں میں احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف آزادی آزادی کے نعروں کے ساتھ ممبئی کے آزاد میدان میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آیا۔ احتجاجی مظاہرے میں مظاہرین ہاتھوں میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے۔الائنس اگینسٹ سی اے اے، این آر سی اور این آرپی کے صدر جسٹس کولسے پاٹل نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ جب عوام بیدار ہوتے ہیں، تو سرکار گھٹنے ٹیکنے پرمجبور ہو جاتی ہے۔مسلم پرسنل لابورڈ کے صدر قاسم رسول الیاس اور مولانا خالد اشرف نے بھی مجمع سے خطاب کیا اور این آرسی، این پی آر اور سی اے اے کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔شہریت ترمیمی قانون کے خلاف بہار کے سابق وزیر اعلی جیتن رام مانجھی نے پٹنہ میں احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے تمام سیاسی پارٹیوں کو اس کے خلاف ایک محاذ قائم کرنے کی اپیل کے ساتھ ہی عام لوگوں سے بھی اپیل کی کہ غریب مخالف اس قانون کے خلاف احتجاج کریں۔ادھرامارت شرعیہ بہار کا کہنا ہے کہ جب تک یہ کالا قانون واپس نہیں لیا جائے گا، اس وقت تک احتجاج جاری رہیگا۔ امارت شرعیہ نے اپوزیشن پارٹیوں کے تعاون سے اس قانون کے خلاف ایک بڑا محاذ قائم کرنے اور احتجاج کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔دوسری جانب اترپردیش میں بورڈ کے امتحانات میں شہریت ترمیمی قانون مخالف تحریک میں شامل بچیوں نے امتحانات میں بیٹھنے سے انکار کردیا ہے۔ریاست کے کئی مقامات پر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ اس احتجاج میں خواتین کے علاوہ بڑی تعداد میں نوعمر بچیاں بھی شامل ہیں۔ سی اے اے مخالف تحریک میں شامل بچیوں نے یوپی بورڈ کے ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں شریک ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- ایشیا
- بھارت میں متنارعہ شہریت قانون کے خلاف دھرنوں اوراحتجاج کاسلسلہ…


































