Sat Oct 10, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

بچوں کوگھر کے چھوٹے موٹے کاموں سے باز مت رکھیں


جب آپ اپنے بچوں کو رات کا کھانا کھانے کے بعد دسترخوان اٹھانے یا ڈائننگ ٹیبل صاف کرنے یا پھر جب انہیں میلے کپڑے واشنگ مشین میں ڈالنے کے لیے کہتے ہیں تو ان کا ردِعمل کیا ہوتا ہے؟
اگر وہ اپنے ردِعمل میں بیزاری، چڑچڑا پن یا پھر شور مچانا شروع کردیتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں گھر کے کام بورنگ لگتے ہیں۔
تاہم آپ کو بچوں سے گھر کے چھوٹے موٹے کام کروانے چاہئیں۔ جاننا چاہتے ہیں کیوں؟ کیونکہ جو بچے گھر کا کام کرتے ہیں وہ آگے چل کر کامیاب بالغ فرد ثابت ہوتے ہیں۔
جولی لیتھ کوٹ ہائمز نامی محقق کے مطابق جن بچوں سے گھر کا کام کروایا جاتا ہے تب ان میں یہ احساس پیدا ہونے لگتا ہے کہ یہ کام زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔
جب والدین ان کے حصے کا کام کرتے ہیں تو بچوں کے ذہن میں یہ بات گھر کرنے لگتی ہے کہ اگر کوئی دوسرا ان کے کام کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور یوں وہ اس بات کو سمجھ ہی نہیں پاتے کہ گھر کے کام کس قدر اہمیت رکھتے ہیں اور یہ کہ کس طرح ’تمام افراد کی بھلائی‘ کے لیے ہر ایک کو گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا چاہیے۔
جولی لیتھ کوٹ ہائمز کو لگتا ہے کہ جو بچے گھر کے کام میں ہاتھ بٹاتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں وہ آگے چل کر اچھے ثابت ہوتے ہیں، ان کا اپنی ٹیم کے ساتھ بہتر تعاون قائم رہتا ہے اور دیگر افراد کی طرف ہمدردانہ رویہ پیدا ہوتا ہے، ساتھ ہی ساتھ انہیں تنِ تنہا مختلف کاموں کا ذمہ اٹھانے میں کسی قسم کا ڈر بھی محسوس نہیں ہوتا۔
چنانچہ بچوں کی تربیت کے دوران انہیں گھر کے چھوٹے موٹے کاموں سے باز مت رکھیں۔ بچوں کی تربیت کا موجودہ طریقہ کار بچوں کو اپنے اندر صلاحیتیں پیدا کرنے اور ان میں نکھار لانے سے روک سکتا ہے۔
جو والدین اپنے بچوں کی زندگیوں یا ان کی پرورش میں زیادہ عمل دخل نہیں کرتے، ان پر اکثر لوگوں کی توجہ مرکوز رہتی ہے۔ بالکل ایسا ہونا چاہیے لیکن ایک ضروری بات یہ بھی ہے کہ جو والدین بچوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں بار بار عمل دخل کرتے ہیں اور جو یہ مانتے ہیں کہ بچے اس وقت تک کامیاب انسان نہیں بن سکتے جب تک والدین ہر موڑ پر ان کا تحفظ اور غلطیوں سے باز نہ رکھیں تو ایسے والدین بھی ایک طرح سے لاشعوری طور پر بچوں کی شخصیت کو کافی نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں۔
فکریں تو تمام ہی والدین کولاحق ہوتی ہیں لیکن بچوں کو ہر جگہ آپ کے حد سے زیادہ عمل دخل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپ کا بچہ کوئی چیلنج قبول کرنا چاہتا ہے تو انہیں ایسا کرنے دیجیے اور انہیں چیلنجز سے نمٹنے دیجیے۔ اپنے بچوں کو محفوظ اور تندرست رکھیں۔ انہیں خالی پیٹ مت رہنے دیں۔ انہیں زندگی کے اہم اسباق کا درس دیجیے۔ یہی آپ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular