عباس کی آواز آرہی تھی، وہ اپنے کمرے میں مگن لیٹا ایک خاص لہجے میں کہہ رہا تھا:
”اللہ کے پیارو! اٹھو سحری کھالو! سحری کا وقت ہو گیا ہے!“ اس کے امی اور ابو برابر والے کمرے میں بیٹھے اس کی حرکت سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ جب کافی دیر گزر گئی، تو ابو اٹھ کر عباس کے کمرے میں گئے۔ وہ ان کی آمد سے بے خبر، اپنی دھن میں مگن رہا۔
ابو بولے:”عباس!بھئی، دن کے ساڑھے تین بجے تم کون سی سحری کھلا رہے ہو؟“
عباس ہڑ بڑا کر اپنی چارپائی پر اٹھ بیٹھا۔
”اوہ ….وہ….ابو“ وہ اٹک اٹک کر مسکراتے ہوئے بولا: ”مجھے پچھلے ماہ رمضان کا خیال آرہا تھا جب مسجد سے اسی طرح اعلان ہوتا تھا تو میری آنکھ کھل جاتی تھی۔“
”ابو دیکھیں نا! اس سال تو آپ مجھے پورے روزے رکھنے دیں گے نا!“ عباس مچلتے ہوئے بولا۔
”بیٹا! ابھی آپ پر روزے واجب نہیں ہوئے۔ لیکن کوئی حرج نہیں اگر تمہاری ہمت ساتھ دے تو پورے روزے رکھ لینا۔“
امی، جو دروازے پر کھڑی ہوئی باپ بیٹے کی گفتگو سن رہی تھیں، لپک کر اپنے لاڈلے کو سینے سے لگالیا، اور خوب پیار کرتے ہوئے بولیں:
”میرا بیٹا بڑی ہمت والا ہے، انشاء اللہ یہ بڑا ہو کر اسلام کا نام خوب روشن کرے گا۔“
”ابومیرا دل چاہ رہا ہے کہ میں آج آپ سے بہت ساری باتیں روزے کے بارے میں جانوں“
ابو بولے:”بیٹا آج کل کی سائنسی معلومات سے یہ ثابت ہے کہ کھانے پینے سے پرہیز بہت سی بیماریوں کے علاج کے لئے معجزانہ اثررکھتا ہے۔ ہم ان سائنسی معلومات کی بناء پر جانتے ہیں کہ جو لوگ بہت زیادہ کھانا کھاتے ہیں، ان کی ساری غذا جذب نہیں ہوتی۔ اس سے نہ صرف فالتو چربی پیدا ہوتی ہے بلکہ خون میں ضرورت سے زیادہ شوگر بھی شامل ہو جاتی ہے۔ یہ فالتو غذائی مواد، بدن میں مختلف بیماریوں کے جراثیم کی پرورش کے لئے گندگی کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ روزہ ان اضافی غلاظتوں اور بدن میں جذب نہ ہونے والے مواد کو جلا دیتا ہے۔“
عباس:”ابو! کچھ لوگ جو بہت موٹے ہو جاتے ہیں، وہ ”ڈائٹنگ“ کرتے ہیں۔تو کیا ڈائٹنگ بھی روزہ ہے؟“ اس کے ابو بولے ان دونوں کا فرق پھر کبھی بتائیں گے، فی الحال صرف اتنا جان لو کہ ڈائٹنگ روزہ نہیں ہے۔ البتہ روزہ، علاوہ اور بہت سے فائدوں کے، ڈائٹنگ والا فائدہ بھی دیتا ہے۔ عباس نے پوچھا اور کیا فائدے ہیں ابو؟
ابو بولے:”بیٹے اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ دولت مند لوگ، معاشرے کے بھوکے اور غریب لوگوں کی تکلیف کا احساس زیادہ آسانی سے کر سکتے ہیں، اور ان میں غریبوں کی مدد کرنے اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ امام جعفر صادق ؑ نے اس سلسلے میں فرمایا ہے:روزہ اس لئے واجب ہوا ہے کہ فقیر اور غنی کے درمیان برابری قائم ہو جائے اور وہ اس طرح کہ دولت مند بھوک کا مزہ چکھ لے اور فقیر کا حق ادا کرے۔ کیونکہ مالدار عموماً جو کچھ چاہتے ہیں ان کو حاصل ہو جاتا ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ اس کے بندوں کے درمیان مساوات(برابری) ہو اور مالداروں کو بھی بھوک اور درد و رنج کا ذائقہ چکھائے تاکہ وہ کمزور اور بھوکے افراد پر رحم کریں۔“
ابو بولے:”عباس!یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ انسان روزہ میں، باوجود کھانے پینے کی چیزوں کے موجود ہونے کے، ان کے قریب نہیں جاتا۔ جبکہ جانوروں کو اگر کسی چراگاہ میں کھانے پینے سے روکنا ہو، تو انہیں رسی یا زنجیر سے باندھنا پڑے گا۔“
عباس بولا:”جی! ابو۔“ ابو بولے:”بیٹا! انسان کی لگام خود اس کے اپنے ہاتھ میں ہے! اور یہ انسان اور جانور کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ روزے کا سب سے بڑا فلسفہ یہی ہے۔“ ابو نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ:”بیٹے تم نے دیکھا ہو گا کہ وہ پودے جو باغ کی دیوار کی پناہ میں نہر کے کنارے نازوں کے ساتھ پرورش پاتے ہیں، ان میں زندہ رہنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ اگر انہیں چند دن پانی نہ ملے تو وہ مرجاتے ہیں۔ جبکہ ایسے درخت جو پتھروں کے درمیان پہاڑوں پر یا بیابانوں میں اگتے ہیں۔ ان کی شاخیں شروع ہی سے سخت طوفانوں، تیز دھوپ اور کڑاکے کی سردی کا مقابلہ کرنے کی عادی ہوتی ہیں۔ ایسے درخت ہمیشہ مضبوط اور سخت جان ہوتے ہیں۔ روزہ بھی انسان کے ساتھ یہی عمل کرتا ہے۔ انسان کو سختیاں برداشت کرنے اور ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت دیتا ہے۔ غرض یہ کہ روزہ انسان کو جانوروں سے ممتاز کرکے فرشتوں کی صف میں لے جاکر کھڑا کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کاقرآن مجید میں ارشاد:”تاکہ شاید تم پرہیزگار بنو۔اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔“
اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی اور مہمان کی آمد ہوئی۔ ابو بولے:”چلو بیٹا باقی گفتگو اس موضوع پر پھر کبھی کریں گے۔
- Home
- بچوں کا نوائے اسلام
- برکتوں کا مہینہ
برکتوں کا مہینہ
-
Ilyas - مئی 1, 2020
- بچوں کا نوائے اسلام
- 2
- 0 minute read


































