طالبان رہنماءملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں طالبان کا سات رکنی وفد پاکستان پہنچ گیا ہے۔ قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے بیان کے مطابق طالبان وفد سینیئر پاکستانی عہدیداروں اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بین الافغان مذاکرات کے تناظر میں ملاقاتیں کرے گا۔ دلچسپ امر یہ ہے طالبان وفد کی قیادت کرنے والے ملا برادر پاکستان میں آٹھ سال تک پاکستان کی قید میں تھے۔ انہیں امریکی درخواست پر 2018ءمیں مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے رہا کیا گیا تھا۔ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کو کامیاب اور سود مند بنانے کے لیے امریکہ کو پاکستان کی اشد ضرورت ہے۔پاکستان بھی اس حوالے سے اپنے کارڈ بڑی خوبصورتی سے کھیل رہا ہے۔ پاکستان ایسے عالم میں طالبان وفد کی میزبانی کر رہا ہے کہ اس نے عالمی دباو ¿ اور اپنی داخلی پالیسی کے تحت دہشت گردوں پر پابندی اور دہشت گرد تنظیموں سے ہر طرح کے تعلقات منقطع کرنے کے لیے قانون سازی کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ طالبان کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ اگر سلسلہ یونہی جاری ریتا ہے تو ممکن ہے پاکستان طالبان کو دہشت گردوں کی فہرست میں قرار دیدے۔ کیونکہ اگر حکومت پاکستان سرکاری طور پر طالبان کو دہشت گردوں کی فہرست میں قرار دینے پر مجبور ہو جاتی ہے تو اس کے کئی اثرات مرتب ہونگے۔نہ صرف طالبان اور افغان حکومت کے درمیان انٹرا افغان ڈائیلاگ پر اسکے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، بلکہ ساتھ ساتھ طالبان پاکستان کی غیر مرئی طاقتوں کی پشتیبانی سے محروم ہوسکتے ہیں۔ طالبان وفد ایسے وقت میں پاکستان کے دورے پر ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ یہ چاہتا ہے کہ صدارتی انتخابات سے پہلے پہلے افغانستان سے اپنے مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کرسکے، دوسری طرف افغانستان میں ہندوستان، روس، چین، ایران اور پاکستان اپنے اپنے اہداف کے درپے ہیں۔ ایسے عالم میں افغان طالبان کا حالیہ دورہ پاکستان، سب کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے


































