والا ہر ایک سے اکڑو انداز اور غصے میں بات کررہا تھا۔ اسی اکھڑ پن میں کبھی وہ نان جلا دیتا تو کبھی کچا نکال لیتا۔
گاہکوں کا رش بڑھتا گیا اور پہلے سے موجود گاہک بھی اسے جلدی نان لگانے کا کہتے رہے جس سے وہ نان والا ہر ایک سے تقریباً لڑنے لگ گیا۔
میں پچھلے چند منٹوں سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔ میری باری آئی تو اس نے میرے لئے کلچے تندور سے نکالنے شروع کئے۔ یہ کلچے کافی حد تک لال ہو کر جلنے کے قریب ہو چکے تھے۔
میں نے وہ کلچے دیکھ کر اسے کہا کہ تم ماشاء اللہ بہت اچھے کاریگر لگتے ہو، اس طرح کے لال کلچے جو جلے بھی نہ ہوں، کوئی عام آدمی نہیں لگا سکتا۔
میری بات سن کر اس نے میری طرف ایسے دیکھا جیسے اسے یقین نہ آیا ہو۔ میں نے اس کا مزید حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس پورے علاقے میں تمہارے جیسا استاد نہیں ہوگا۔ کاش تم پہلے اس تندور میں آجاتے۔
یہ بات سن کر اس تندور والے کو جیسے بھرپور توانائی مل گئی۔ یکدم اس کا موڈ خوشگوار ہوگیا۔ چہرے پر مسکراہٹ آگئی اور اس نے کہا:
”صاحب جی، اگر سب لوگ تھوڑا صبر کرلیں تو انہیں بہترین سودا ملے گا۔“
دوستو، وہ دن ہے اور آج کا دن۔ میں جب بھی جاؤں وہ میرے لئے اسپیشل نان خود لگاتا ہے۔ آج صبح بھی جب میں اس سے تل والے کلچے خریدنے گیا تو وہ خود ناشتہ کررہا تھا اور اس کا اسسٹنٹ تندور میں نان لگا رہا تھا۔
رش کافی تھا، اس ے اسسٹنٹ کو کہہ دیا کہ وہ باقیوں کے نان لگادے، میرے لئے وہ خود لگائے گا۔
اس نے جلدی جلدی ناشتہ ختم کیا، اور بہترین قسم کے بھرے ہوئے تلوں والے کلچے لگا کر دیئے۔ وہاں کھڑے باقی لوگ مجھے کوئی وی آئی پی شخصیت سمجھ رہے تھے۔
اور میں سوچ رہا تھا کہ ابھی نبی کریم ؐ کے صرف ایک قول پر عمل کیا تھا جس میں آپؐ نے دوسروں سے اخلاق اور شفقت سے پیش آنے کا حکم دیا تھا۔
- Home
- بچوں کا نوائے اسلام
- کُلچے والا
کُلچے والا
-
Ilyas - جولائی 16, 2020
- بچوں کا نوائے اسلام
- 5
- 0 minute read


































