دنیا بھر میں وبائی شکل اختیار کرنے والا کورونا وائرس کسی کو بھی ہوسکتا ہے لیکن ان لوگوں کو کورونا وائرس سے خطرہ زیادہ ہے جو کہ ضیعف ہیں یا جنھیں پہلے سے صحت کے مسائل ہیں۔اگر آپ کو پہلے سے صحت کے مسائل کا سامنا ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کورونا وائرس آپ کو ہر صورت ہوگا، ہاں آپ کو اس سے نسبتاً زیادہ خطرہ ضرور ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ احتیاطی تدابیر ضرور برتیں۔
جن لوگوں کی عمر زیادہ ہوتی ہے ان کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے اور وہ لوگ جنھیں پہلے سے صحت کے مسائل ہیں جیسا کہ ذیابیطس، دمہ یا دل کی بیماری ہے انھیں کورونا وائرس کے اثرات اور علامات زیادہ محسوس ہوں گی۔بہت سے لوگ کورونا وائرس لاحق ہونے کے ایک دن بعد ٹھیک ہوجائیں گے لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو کہ جلدی صحت یاب نہیں ہوتے۔
کورونا وائرس سے کیسے بچیں؟
سب سے اہم چیز ہے کہ آپ اس انفیکشن کو ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔
۱۔یہ وائرس کھانسی سے اور آلودہ جگہوں سے پھیلتا ہے جیسا کہ پبلک ٹرانسپورٹ، دفاتر اور عوامی مقامات میں ہینڈ ریل یا دروازے کے ہینڈل۔
۲۔ سینیٹائزر یا اینٹی بیکٹیرل اسوقت استعمال کریں جب پانی اور عام صابن دستیاب نہ ہو۔ کہ سینیٹائزر کا وافر استعمال جلد کی دیگر بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
۳۔کھانسے، چھینکنے کے عالمگیر اصولوں پر عمل کریں یعنی منہ ڈھانپ لیں۔
۴۔صفائی کا خیال اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روک سکتا ہے۔
۵۔اگر آپ کے ہاتھ صاف نہیں تو اسے آنکھوں، ناک اور منہ پر لگانے سے اجتناب کریں۔
کیا مجھے فیس ماسک کا استعمال کرنا چاہیے؟
پھیپڑوں کے امراض کے لیے کام کرنے والی برٹس لنگ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ ‘ہم فیس ماسک کے استعمال کی تجویز نہیں دیں گے کیونکہ ان کے موثر ہونے کے زیادہ شواہد موجود نہیں۔اس کے علاوہ فیس ماسک کا استعمال پھیپڑوں کی بیماری والے افراد کے لیے سانس لینے میں دشواری پیدا کرسکتا ہے۔
اگر میری طبیعت خراب ہونے لگے تو مجھے کیاکرنا چاہیے؟
کورونا وائرس کی علامات ہیں کھانسی، تیز بخار اور سانس لینے میں دشواری۔ لیکن ان علامات کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو کورونا وائرس ہی ہے۔
برطانیہ کے رائل کالج آف جی پی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جانتھن لیچ کہتے ہیں: ‘مریض کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ وہ خوف زدہ نہ ہو۔ اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ اگر آپ کو بخار یا کھانسی ہے تو آپ کو فلو ہوسکتا ہے نہ کہ کورونا وائرس’۔
سب سے اہم چیز ہے کہ آپ اس انفیکشن کو ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔
کیا میں اپنی دوائیاں لینا بند کردوں؟
اگر آپ پہلے سے صحت کے کسی مسئلے کا شکار ہیں تو آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی دوائیں وقت پر لیتے رہیں۔ اگر آپ خود چل کر نہیں جاسکتے تو آپ کسی دوست یا رشتے دار کو اپنی دوائیں لینے کے لیے بھیجیں۔
حاملہ خواتین کو خطرہ ہے؟
اس بارے میں ابھی کوئی ثبوت نہیں کہ حاملہ خواتین کو اس وائرس سے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ خطرہ ہے۔ انھیں بھی سب لوگوں کی طرح احتیاط برتنی ہے۔
میں عمر رسیدہ ہوں، کیا مجھے خود کو الگ کر لینا چاہیے؟
برطانوی حکومت کے چیف میڈیکل ایڈوائزر یا مشیر کا عمر رسیدہ افراد یا پینشن لینے والی آبادی کے بارے میں کہنا ہے کہ انھیں خود کو الگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ضعیف افراد کے لیے کام کرنے والے برطانوی ادارے ایج یو کے کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ افراد کے دوستوں اور رشتہ داروں کو ان کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے اور وقتاً فوقتاً ان سے حال احوال چال پوچھتے رہنا چاہیے۔
- Home
- خواتین کا نوائے اسلام
- کورونا وائرس سے کس کو خطرہ ہے؟
کورونا وائرس سے کس کو خطرہ ہے؟
-
Ilyas - مارچ 27, 2020
- خواتین کا نوائے اسلام
- 3
- 1 minute read


































