واقعہ کربلا نے انسانیت کو سرخرو کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار کو حیات نو بخشی ہے۔اس عظیم اور بے مثال جنگ میں جہاں پر مولا امام حسین علیہ السلام کے با وفا ،بہادرفرزندان اور اصحاب کے بے نظیر کردار موجود ہیں وہاں پر خواتین کی بے مثل قربانیوں سے انکار نا ممکن ہے، جس کو انسانیت کی تاریخ نے ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا ہے۔ ان مثالی خواتین نے باطل کے مقابل اپنے معصوم بچوں کو بھوک وپیاس کی شدت سے بلکتا ہوا دیکھنا گوارا کیا، لیکن دین اسلام کی کشتی کو ڈوبنے نہیں دیا۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ مقصدِ واقعہ کربلا کو اپنی منزل مقصود تک پہنچانے میں خواتین کربلا کے کئی بے نظیر ولاثانی کردار ہیں۔یہاں پر یہ جملہ لکھا جائے تو مبالغہ نہیں ہو گا کہ سانحہ کربلا میں اگر یہ عظیم خواتین نہ ہوتیں تو حضرت امام حسین ؑکا مقصدِ قربانی ادھورا ہی رہ جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت سید الشہدا ؑ بہت سے اصحابؑ کے مشورے کے برخلاف اپنے ہمراہ اسلامی معاشرے کے لیے نمونہ خواتین کو میدان کربلا میں لائے تھے۔کربلا کی ان بہادرخواتین نے اپنے عمل سے ثابت کردکھایا کہ نواسہ رسول کربلا میں خواتین کو بے مقصد نہیں لائے تھے۔
کربلا کا واقعہ صرف عراق کی سر زمین کربلا میں ہونیوالا ایک واقعہ نہیں ہے ،بلکہ کربلا ایک تحریک، ایک حقیقت ،ایک مشن اور ایک مقصد کانام ہے کیونکہ آل عبا کی اس عظیم تحریک کاآغاز 28 رجب المرجب 60 ھ سے شروع ہو ا اور یہ تحریک محرم الحرام کو عصر عاشورا کے ساتھ ختم نہیں ہوئی بلکہ ام المصائب ،ثانی زہرا جناب سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اور سید السجادامام زین العابدین ؑ کی سربراہی میں کوفہ اور شام کے فاسق،جابر اور ظالم حکمرانوں کے درباروں تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ اس انقلاب کی صدا پورے شرق و غرب اور عرب و عجم میں بھی سنائی دی۔
چند نمونہ عمل خواتین:
حضرت زینب کبری (س):
جناب سیدہ زینب (س) 6ھ کو مدینہ میں متولد ہوئیں ،آپ (س)کی مادر گرامی سید النسا العالمین حضرت فاطمہ زہرا(س) اور والد بزرگوار امیر المومنین حضرت علی مرتضیٰ علیہ السلام ہیں۔آپ (س)کا نام زینب اور القاب میں سے عقیلہ بنی ہاشم ،ملکہ عرب اور ثانی زہرا مشہور ہیں۔آپؑ فصاحت وبلاغت میں اپنی مثال آپ تھیں۔
آپ (س) کی شادی اپنے چچازاد حضرت عبداللہ ابن جعفر طیار ؑسے ہوئی اور آپ(س) کو اللہ نے چار بیٹے اور ایک بیٹی سے نوازا۔ان میں سے دو بیٹے عون اور محمد کو بقائے اسلام کی خاطر عاشورا کے دن قربان کیا۔ آپؑ کی اپنے بھائی سے محبت اس قدر تھی کہ عبداللہ ابن جعفر سے نکاح کے وقت آپؑ نے یہ شرط رکھی کہ میرے بھائی حسینؑ جہاں بھی جائیں مجھے بھی انکے ساتھ جانے کی اجازت ہوگی،یہی وجہ تھی کہ جب امامؑ عالی مقام نے مدینہ سے سفر کاارادہ کیاتو آپ (س)کو اپنے شوہر نے خوشی کے ساتھ اجازت دی۔
کربلا معلی میں اور عاشورا کے بعد آپ(س)کاکردار بہت ہی زیادہ ہے۔عصر عاشور تک اگر تحریک کربلا کی قیادت نواسہ رسول، حضرت امام حسین ؑ نے کی تھی تو عصر عاشور کے بعد اس تحریک کی روح رواں ثانی زہرا علیہا السلام بن گئیں۔
ثانی زہرا (س) نے شام غریباں سے شروع ہونے والی اپنی اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا۔ چاہے کربلا کی شام غریباں ہو یا کوفہ و شام کے بازار و دربار، آپؑ نے ہر جگہ دشمنوں کی سازشوں اور اپنے بھائی کے مقصد شہادت کو کھل کر بیان کیا۔ آپ (س)نے نہ صرف اسیران کربلا کے قافلے کی حفاظت اور قیادت کی بلکہ اپنے خطبات سے کوفیوں اور شامیوں کے سامنے یزیدیوں کی حقیقت کھول کر رکھ دی۔ آپ(س) نے اپنے بابا فاتح خیبر کے لہجے میں خطبے دے کر ظلم کے ایوانوں پر لرزہ طاری کر دیا اور جو یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے مظلوم کربلا ؑکو شہید کر کے اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ دور کر دی ہے تو حیدر کرارؑ کی شیردل بیٹی نے ان کی یہ غلط فہمی دور کر دی۔
یہ بات تاریخ کے اوراق پر لکھی واضح دکھائی دیتی ہے کہ دین اسلام کو بقا امام حسینؑ اور ان کے اصحاب کی شہادت سے نصیب ہوئی اور اس مقصد کی تکمیل سیدہ زینب (س) کی اسیری اور کوفہ و شام کے بازاروں اور درباروں میں ان کے حیدری لہجے کے خطبوں سے ممکن ہوئی۔
امام حسین ؑ کے اہداف کو مختلف مقامات پر خاص طور سے دربار یزید میں اسلامی ملکوں کے نمائندوں کے درمیان ضمیروں کو جھنجھوڑ دینے والا بینظیر خطبہ دینا اور بنی امیہ کی حکومت اور اس کے افکار کو زمانہ بھر کے سامنے رسوا کر دینا یقیناًیہ دلیری اور شجاعت فقط اور فقط عقیلہ بنی ہاشم جناب زینب (س) کیساتھ مختص ہے۔
دختر علی ؑ و بتول(س) کی دلیری اور شجاعت کے ساتھ ساتھ تقوی اور دین داری کی یہ حالت تھی کہ اتنے سخت حالات میں بھی اپنی نماز شب کو نہیں بھولیں اور حالت اسیری میں بھی نماز کی ادائیگی ترک نہ کی اس طرح سب پر اہمیت نماز بھی واضح کر دی اور یہ بھی ثابت کر دیا کہ جنہیں باغی قرار دے کر شہید کیا گیا وہ اسلام کے اصل وارث تھے۔ اس کے بعد بازاروں اور درباروں میں دیئے گئے خطبات بھی تاریخ کے سنہرے ابواب ہیں ان خطبات نے ہی اس صورت حال کو تبدیل کر دیا جو یزیدیوں نے اپنے حق میں بنائی تھی۔
حضرت ام کلثوم(س):
آپ(س) کا اسم مبارک زینب صغری جب کہ کنیت ام کلثوم تھی، آپ(س) جناب امیر المومنینؑ اور جناب سیدہ زہرا(س) کی چھوٹی صاحبزادی ہیں۔ آپ(س)کی شادی کثیر ابن عباس ابن عبدالمطلب سے ہوئی۔
آپ(س) مدینہ سے اپنے بھائی کے ہمراہ کربلا آئیں۔ عاشورا کے تمام مصائب کو برداشت کرنے کے ساتھ اپنی بڑی بہن زینب کبری(س) کے ساتھ شام و کوفہ کے تمام مصائب پر صبر جمیل کرتے ہوئے مقصد شہادت حسین ابن علیؑ کو دنیا والوں تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
حضرت فضہ(س):
آپ(س) کو رسول خدا،احمد مجتبیٰ نے اپنی بیٹی دختر نبوت ،ہمسر ولایت ،مادر امامت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو خدمت گارکے طور پر بخش دیا تھا۔ جناب فضہ (س)نے ابی ثعلبہ حبشی سے شادی کی اور اللہ نے انہیں ایک بیٹا عطا کیا۔ابی ثعلبہ کی وفات کے بعد ابو ملیک عطفا سے عقد کیا۔جناب فضہ(س) ایمان ،زہد وتقویٰ اورمحب اہلبیتؑ اور فصیح و بلیغ ہونے کے حوالے سے مشہور تھیں۔ آپ (س)اپنے مولاؑ کے سامنے اس قدر تابع و فرمانبردار تھیں جو کام خاندان پاک وعصمت انجام دیتے آپ(س) بھی اس کام کو بجا لاتی تھیں۔ آپ (س)باب مدینہ علم کی بالواسطہ شاگردہ تھیں، اسی لئے آپ (س)کے بارے میں مورخین لکھتے ہیں کہ جب آپ (س)سے سوال کیا جاتا توآپ (س)جواب قرآن پاک سے دیتیں۔ آپ جناب سیدہ(س) کی شہادت کے بعد حضرت زینب کبریٰ (س) کی خدمت گار رہیں یہاں تک کہ کربلا کے اس پر آشوب واقعے میں بھی حاضر تھیں۔مدینہ واپسی کے بعد دوبارہ جناب زینب کبری(س)کے ہمراہ شام چلی گئیں اور وہاں وفات پائی۔
جناب رباب(س):
حضرت رباب (س)کے والد کا نام امری القیس ابن عدی ابن اوس جبکہ والدہ کانام میسورہ دختر عمرو ابن ثعلبیہ ہیں۔ آپ (س)کی شادی حضرت امام حسینؑ کے ساتھ ہوئی۔ اللہ تعالی نے آپ (س)کو حضرت سکینہ(س) اور حضرت عبداللہ (علی اصغرؑ)عطا فرمائے۔ امام حسین ؑ کا آپ سے محبت کا اندازہ امام عالی مقام کے اس مشہور شعر سے ہوتا ہے۔” میں اس گھر سے محبت کرتا ہو ں جس میں سکینہ اور رباب ہو“
حضرت رباب(س) باقی خاندان بنی ہاشم کے ساتھ کربلا تشریف لائیں اور عاشوراکے اس دردر ناک والمناک واقع کی عینی شاہد ہونے کے ساتھ ساتھ کوفہ و شام میں اسیری کی صعوبتیں بھی آپ نے برداشت کیں۔ شیخ یعقوب کلینی نے حضرت امام جعفر صادق ؑ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ: جب امام حسین علیہ السلام کی شہادت ہوئی تو حضرت رباب(س) نے گریہ و زاری کی اور یہاں تک اشک بہائے کہ آپ (س)کی آنکھیں خشک ہوگئی۔
حضرت رباب (س)جب مدینہ پہنچیں تو بہت سے افراد نے آپ(س) سے شادی کی درخواست کی مگر آپ نے کسی کو قبو ل نہیں کیا۔اپنے عظیم شوہر نامدار کے غم کو برداشت نہ کرسکیں اور واقعہ کربلا کے ایک سال بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئیں،مدینہ میں آپ کی تدفین ہوئی۔
جناب لیلیٰ(س):
لیلیٰ بنت ابی مر بن عرو بن مسعود بن متعب بن مالک ابن کعب الثقفیہ مدینہ میں متولد ہوئیں ،آپ(س) کے والد ابو مر جناب مختار ابن ابو عبیدہ ثقفی کے چچا زاد بھائی تھے۔ امام حسین ؑ نے آپ (س)سے عقد فرمایا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو علی اکبرؑ جیسا فرزند عطا فرمایا جو صورت و سیرت میں رسول اللہسے مشابہت رکھتے تھے۔ جناب لیلی (س)کے کربلامیں حاضر ہونے کے سلسلہ میں مورخین کے درمیان اختلاف ہے۔ہم یہاں پر مختصر طورپر دونوں مورخین کا تذکرہ کرتے ہیں۔
محمد ہاشم خراسانی (صاحب کتاب منتخب التواریخ )،شیخ عباس قمی(صاحب کتاب منتہی الاعمال ،نفس المہموم)، عبدالرزاق مقرم (صاحب کتاب علی الاکبر ابن الشہید)، شیخ مرتضی مطہری (صاحب کتاب الملحم الحسینیہ)، شیخ محمد تقی تستری (صاحب کتاب قاموس الرجال)وغیرہ آپ کے کربلا میں موجود نہ ہونے کے قائل ہیں۔
جبکہ سید ابن طاس نے ”الاقبال“ میں ،شیخ یعقوب اسفراینی نے ”نور العین فی مشہد الحسین“میں ،شہر آشوب نے”مناقب آل ابیطالب“میں ،شیخ مہدی مازندرانی نے ”معالی السبطین “ میں ملا حسین واعظ کاشفی نے ”روض الشہدا“ میں اور شیخ حبیب اللہ کاشانی نے ”تذکر الشہدا“ میں لکھا ہے کہ جناب لیلیٰ کربلا میں موجود تھیں۔
ام وہب(س):
ام وہب (س)تقریباً سنہ 26 ھ کو متولد ہوئیں۔جب وہب ،انکی ماں اور زوجہ امام عالی مقام علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہورہے تھے اسوقت یہ لوگ مسلمان نہیں تھے انہوں نے امام حسین ؑکے ہاتھوں اسلام قبول کیا۔
وہب کی والدہ اپنے بیٹے کو شہادت کی ترغیب دلاتی تھیں کہ میرے بیٹے اٹھو، اور فرزند رسول کی مدد کرو۔ وہب کہتے ہیں : اس معاملے میں میں کوتاہی نہیں کروں گا۔
بحریہ بنت مسعود خزرجیہ(س):
آپ اپنے شوہر جنادہ ابن کعب ابن حرث انصاری اور اپنے فرزند عمر ابن جنادہ کے ساتھ حاضر ہوئیں۔ روایت کے مطابق شوہر کی شہادت کے بعد آپ(س) نے اپنے فرزند کو زرہ پہنا کر اذن جہاد کیلئے امامؑ کی خدمت میں بھیجا ،جنادہ گیارہ سال کے تھے۔ کچھ دیر پہلے آپ کے والد شہید ہوچکے تھے لہذا امام عالی مقامؑ نے ماں کا لحاظ کرتے ہوئے اجازت نہیں دی یہ دیکھ کر عمرو نے کہا مولا میری ماں نے مجھے یہ زرہ باندھ کر بھیجا ہے کہ آپؑ پر جان قربان کروں۔
(جاری ہے۔۔۔)


































