Sat Oct 17, 2026

یمنی فوج نے سعودی عرب کا جاسوسی اور جنگی ڈرون مار گرایا احمد الشرع کو دھمکی دیکر شام میں دروز برادری کا قتل رکوایا، نیتن یاہو یمن سے مکہ یا مدینہ پر حملے کا دعویٰ جھوٹ ہے، انصار اللہ ایران کی سخت دھمکی، دشمن کے مفادات اور اثاثے بھی نشانے پر ہوں گے امریکی فوج کے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے نئے منصوبے تیار صدارتی محل پر یمنی فوج کا میزائل حملہ، 2 سکیورٹی اہلکار ہلاک، متعدد زخمی ایران کیخلاف جنگ یورپ کو 100 ارب یورو سے زائد میں پڑ گئی، اسپین کے وزیرِاعظم کا بڑا انکشاف اختلاف رائے کا حق ختم کرنا معاشرے کے لیے خطرناک ہے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نیتن یاہو کیخلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، ناوے پلے سعودی ایئرپورٹس پر یمنی حملوں میں 19 افراد ہلاک، 364 زخمی آذربائیجان میں اجلاس، اسرائیلی صدر کی تقریر کے دوران 12 ممالک کا واک آؤٹ پشاور میں المناک سانحہ، اسکول کی چھت گرنے سے 34 بچے اور خاتون ٹیچر جاں بحق ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ

روزانہ کی خبریں

متحدہ علماء بورڈ سے نصابی کتب کی کلیئرنس لازم قرار

پنجاب میں پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک کی نصابی کتب کی کلیئرنس کیلئے متحدہ علماء بورڈز پنجاب نے اپنی پالیسی جاری کر دی ہے۔ ٹیکسٹ بک بورڈ کے فیصلے کے تحت پرائیویٹ پبلشرز اپنی کتابوں کے مسودات متحدہ علماء بورڈ میں جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔ پہلی سے تیسری جماعت کی نصابی کتب پر کلیئرنس کیلئے متحدہ علماء بورڈ 35 ہزار روپے فیس وصول کرے گا۔ چوتھی اور پانچویں جماعت کیلئے 45 ہزار روپے، چھٹی تا آٹھویں جماعت کیلئے 60 ہزار روپے، میٹرک اور اولیول کیلئے 70 ہزار جبکہ انٹرمیڈیٹ کی نصابی کتب پر این او سی جاری کرنے کیلئے علماء بورڈ 85 ہزار روپے فیس وصول کرے گا۔
متحدہ علماء بورڈ نے کتابوں پر این او سی جاری کرنے کیلئے چار کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ ڈاکٹر راغب نعیمی، مولانا محمد علی نقشبندی، نبیرہ عندلیب اور مولانا محمد خان لغاری کو ہر کمیٹی کا الگ الگ چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ پبلشرز اپنی کتابوں کی کلیئرنس کے لیے مسودات متحدہ علماء بورڈ جمع کرانے کے پاپند ہوں گے جبکہ بورڈ سے حاصل کردہ این او سی پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ جمع کرایا جائے گا جس کے بعد پبلشرز کو کتابوں کی اشاعت کی اجازت ہوگی۔

مزید پڑھیے

Most Popular