
بین المسالک ہم آہنگی کیلئے بہت کام کیا،تحفظ بنیاد اسلام بل پر تحفظات دورہونے چاہیے، تکفیریوں کی حمایت میں بیان پر طاہر اشرفی کا ویڈیو بیان
طاہر اشرفی تکفیریوں کا حامی ہے، علمابورڈ کی قیادت سے ہٹانے کی تحریک چلائیں گے، یہ بین المسالک اختلافات کا باعث بن رہا ہے،شیعہ تنظیمیں
لاہور (نیوزڈیسک) متحدہ علما بورڈ کی قیادت سے ہٹانے جانے کے خوف سے پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی نے یوٹرن لے لیا اور اہل تشیع کیخلاف شرانگیز اور تکفیریوں کی حمایت میں دئے گئے ویڈیو بیان کی وضاحت میں نیا ویڈیو بیان جاری کردیا، تکفیروں کے سہولت کار مولوی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ محبت، احترام اور اخوت کے حامی ہے اور اس نے بین المسالک ہم آہنگی کیلئے مثالی کام کئے ہیں، تحفظ بنیاد اسلام بل پر جس کے بھی تحفظات ہیں وہ دور ہونے چاہیے،ہماری اہلبیت سے محبت کسی سے زیادہ نہیں تو کسی سے کم بھی نہیں،اس سے پہلے مولانا نے تحفظ بنیاد اسلام بل پر انتہائی شرانگیز بیان جاری کیا تھا اور شیعوں کے خلاف اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ صحابہ کے نام کیساتھ رضی اللہ نہ لگانے والے اور صحابہ کو نہ ماننے والے کافر ہیں،اس بیان کے بعد شیعہ جماعتوں نے مولانا کو متحدہ علما بورڈ کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا مطالبہ کردیا اور اعلان کیا کہ اگر اسے قیادت سے نہیں ہٹایا گیا تو موثر تحریک چلائی جائے گی، مختلف شیعہ جماعتوں کے سینئر قائدین نے لاہور میں ملاقات کی اور طاہر اشرفی کے تکفیریوں کی حمایت اور اہل تشیع کے عقائد کیخلاف ویڈیو بیان کا تفصیلی جائزہ لیا ، شیعہ رہنماوں نے فیصلہ کیا کہ طاہر اشرفی جیسے متنازع آدمی کا متحدہ علما بورڈ کی چیئرمین شپ پر براجمان ہونا بین المسالک اختلافات کا باعث بن رہا ہے،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گورنر ، وزیراعلیٰ اور وزیر قانون پنجاب سے ملاقاتیں کرکے طاہر اشرفی کو متحدہ علما بورڈ کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا جائے گا اور اس کی جگہ پنجاب قران بورڈ کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا اور تحریک حسینیہ پاکستان کے سربراہ علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر کا نام دیا جائے گا۔


































