
پنجاب کے گورنر چوہدری محمد سرور سے سعودی سفیر نے گورنر ہاؤس لاہور میں ملاقات کی ہے۔ سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے درمیان مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے دورانِ گفتگو سعودی سفیر سے کہا کہ دونوں ممالک کے مثالی تعلقات پاکستانیوں کیلئے قابلِ فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلتا ہے، پاکستان کی تعمیر و ترقی میں سعودی حکومت کا تعاون لائقِ تحسین ہے۔ اس موقع پر سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات دو بھائیوں جیسے ہیں۔علاوہ ازیں سعودی سفیر نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں اور کچھ مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق سعودی سفیر کی ملاقاتوں کو ان کے ملک کے لیے حمایت متحرک کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ پاکستان علما کونسل کے رہنما حافظ طاہر اشرفی گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے تعلقات پر بات چیت کے لیے سعوی عرب گئے تھے۔مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے چند روز قبل ایک ٹاک شو کے دوران برادر ملک کے بارے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی استعمال کردہ ’زبان‘ پر مایوسی کا اظہار کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمٰن نے بھی وزیر خارجہ کے بیان پر تنقید کی تھی۔ سعودی عرب نے مبینہ طور پر 2018ء میں پاکستان کو دیے گئے 3 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کا مطالبہ کی تھا جس کا ایک تہائی حصہ ادا کیا جاچکا ہے جبکہ بقیہ رقم کی ادائیگی کے لیے بات چیت جاری ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور سعودی سفیر کی ملاقات کے بعد جاری کردہ ایک بیان کے مطابق دونوں نے پاک سعودی تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔


































