
صنعا ائرپورٹ دوبارہ کھولنے ، حدیدہ بندرگاہ فعال بنانے اور سیاسی عمل کی بحالی میں بہت دیر ہو چکی ہے، اقوام متحدہ کے ایلچی پھر یمن سے مایوس لوٹ گئے
سعودی عرب کے جیزان میں وسیع آپریشن،سعودی اور سوڈانی فوج کو بھاری نقصان،بڑے علاقے پر قبضہ کرلیا، ملک خالد ائربیس پر ایک او رڈرون حملہ،
صنعا (نیوز ڈیسک)عودی عرب ایک بار پھر اپنی شرائط پر جنگ بندی مسلط کرنے میں ناکام ہوگیا اور اقوام متحدہ کے ایلچی ایک بار پھر یمن سے ناکام لوٹ گئے، اقوام متحدہ کے ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھ نے صنعا سے واپسی پر ائرپورٹ پر نیوز کانفرنس میں جنگ بندی سے متعلق کوششوں میں ناکامی کا اعتراف کیا، انہوں نے کہا کہ وہ مکمل جنگ بندی، لوگوں کی آزادانہ آمد و رفت ، ضروری اشیا کی ترسیل اور فریقین کے درمیان سیاسی عمل کو پھر سے شروع کرنے کے لئے ثالثی کا مشن لے کر آئے تھے، فریقین کے درمیان مذاکرات پھر سے شروع کرنے سے متعلق سوال پر کہا کہ اس بابت مجھ سے زیادہ کوئی دوسرا مایوس نہیں ہو سکتا ، جنگ بندی ، صنعا ائرپورٹ کو دوبارہ کھولے جانے، حدیدہ کی بندرگاہ کو فعال بنانے اور پھر سے سیاسی عمل شروع کئے جانے میں بہت دیر ہو چکی ہے، صنعا حکومت کا کہنا ہے کہ سعودی اتحاد فوجی معاملات کو انسانی مسائل سے نتھی کرکے، یمنی عوام کے خلاف جاری محاصرے کو مکمل طور سے اٹھائے جانے اور جنگ کے مکمل خاتمے کی مخالفت کر رہا ہے، محمد علی الحوثی نے اعلان کیا ہے کہ حکومت جوابی حملے میں ہلاک سعودی فوجی اہلکاروں کی لاشیں دینے کو تیار ہے ، ادھر یمنی فوج اور رضاکار فورس نے جنوبی سعودی عرب کے جیزان میں وسیع آپریشن کرکے سعودی اتحاد کو کاری ضرب لگائی ہے، فورسز نے جیزان کے علاقے الخوبہ الوادی جارہ نامی علاقے میں وسیع پیمانے پر حملے کئے، یہ حملہ تین طرف سے کیا گیاا اور یمنی فوج نے پیشرفت کرتے ہوئے علاقے پر مکمل قبضہ کر لیا اور سعودی اور سوڈانی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا ہے ،حملے میں کمانڈرز سمیت کئی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے، یمنی فوج اور رضاکار فورس نے کئی ویڈیو جاری کئے ہیں جن میں یمنی فوج کی پیشرفت دکھائی گئی ہے، دوسری جانب یمن کی مسلح افواج نے جوابی کارروائی میں شاہ خالد ائربیس کو نشانہ بنایا، خمیس مشیط کے علاقے میں واقع ملک خالد ائربیس پر قاصف دو قسم کے دو ڈرونزسے حملہ کیا گیا۔


































