
دنیا میں امن کا راگ الاپنے والے امریکا نے نام نہاد جنگوں کے خاتمے کے نام پر بھی دنیا بھر کو 175 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرڈالا، غیرممالک کو عسکری سازوسامان کی فروخت کی جبکہ 124.3 ارب ڈالر کی براہ راست تجارتی فروخت سر انجام دی جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 2.8 فیصد زیادہ رہی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ کے مطابق سال 2020 میں امریکہ نے 50.78 ارب ڈالر کی بین الاحکومتی غیر ممالک کو عسکری فروخت اور 124.3 ارب ڈالر کی براہ راست تجارتی فروخت سر انجام دی۔ دنیا میں ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر نگاہ رکھنے والے بین الاقوامی ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی) کے مطابق گزشتہ سال 2019ء میں امریکا اور چین اسلحے کی عالمی مارکیٹ میں سر فہرست تھے۔
جبکہ تنازعات کی وجہ سے پہلی مرتبہ مشرق وسطیٰ نے 25 بڑے اسلحہ سازوں کی فہرست میں جگہ بنائی تھی۔ چوٹی کی 25 سب سے بڑی ہتھیار ساز کمپنیوں میں 12 کمپنیوں کا تعلق امریکا سے ہے جنہوں نے دنیا بھر میں فروخت ہونے والے ہتھیاروں کا 61 فیصد حصہ فروخت کیا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس 16 فیصد ہتھیاروں کی فروخت کے ساتھ چین دوسرے نمبر پر رہا تھا اور رواں سال بھی وہ دوسرے نمبر پر رہا ہے۔ چین کی چار کمپنیاں ہتھیار تیار کرنے والی دنیا کی 25 بڑی کمپنیوں میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں، ان میں سے تین کمپنیاں دس بڑی عالمی اسلحہ ساز کمپنیوں میں شامل ہیں، چین نے 56.7 ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے۔


































