استاد حسین انصاریان
تقویٰ اختیار کرنے اور گناہوں سے خود کو محفوظ رکھنے کا حوصلہ پیدا کرنا بہترین اقدام اور پسندیدہ عمل ہے۔ تقویٰ اختیار کرنا ایک ایسی عبادت ہے جو خدا کے حکم سے کی جاتی ہے اور ایسا عمل ہے کہ جس سے خدا ضرور خوشنود ہوگا۔بدنی، مالی اور اخلاقی عبادتوں کے بجالانے فلسفہ ، حیات انسانی کی سطح پر تقویٰ کو ابھارنا ہے جس عبادت سے تقویٰ پیدا نہ ہو وہ عبادت نہیں ہے۔ تقویٰ کرامت کی بنیاد، شرافت کی جڑ، کامیابی کا ضامن اور دنیا و آخرت کی بھلائی کی کلید ہے۔
معاشرہ ہزاروں خاندانوں سے مل کر بنتا ہے اور خاندان میاں بیوی اور چند بچوں سے وجود میں آتا ہے ۔ اصل میں خاندان اور معاشرے کی بنیاد افراد ہی ہوتے ہیں اگر نوع انسانی ایک ایک فرد متقی اور پرہیز گار بن جائے تو صحیح خاندان اور نیک معاشرہ وجود میں آجائے جس کے داخلی اور بیرونی ماحول میں امن و سکون کی حکمرانی ہوگی اور اس کے افراد کے تکامل کے لئے خاطر خواہ زمین ہموار ہوگی۔
جس کے نتیجے میں ایسا معاشرہ وجود میں آجائے گا جس میں تمام افراد ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں گے اور سب ہی ایک دوسرے کی ضرررسانی سے محفوظ ہوں گے۔
متقی لوگوں سے خدا محبت کرتا ہے اور انبیاءو آئمہ ؑ انہیں دوست رکھتے ہیں پرہیز گار لوگ ہی مفید و صاحب شرافت ہوتے ہیں۔ اہل تقویٰ بہترین سیرت کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں سے نورٹپکتا ہے۔ وہ بہترین اخلاق کو اختیار کرتے ہیں اور ہر گناہ اور برائی سے الگ رہتے ہیں۔


































