ایران نے ونیزویلا کو تیل کی قلت سے نجات دلانے کیلئے اسے وافر مقدارمیں تیل بھیجنے کا فیصلہ کیا تو جیسے امریکا میں کھلبلی مچ گئی امریکی حکام دن رات ایران کو سنگین نتائج سے ڈرانے لگے ،تیل سے بھرے جہازوں کو روکنے انہیں تباہ کرنے کی دھمکیاں دی جانے لگیں،لیکن امریکی دھمکیوں کو ٹھوکروں میں رکھتے ہوئے ایران نے امریکا کو کسی مہم جوئی کی صورت میں سخت نتائج سے خبردار کیا اور اپنے عزم و حوصلے کے برقرار رکھتے ہوئے تیل کی وافر مقدار ونیزویلا پہنچادی جسکا ونیزویلا کے حکام اور عوام کی جانب سے بھرپور خیرمقدم کیاجارہاہے،ایران اور وینزویلا کے درمیان ایک بات مشترک ہے کہ دونوں نہ صرف امریکی پابندیوں کا شکار ہیں بلکہ اس کے عتاب میں بھی الجھے ہوئے ہیں ، وینزویلا کے پاس تیل کے وافر ذخائر ہیں لیکن امریکی پابندیوں اور اس کی ریفائنریز پر امریکی قبضے نے اسے مجبور کردیا کہ وہ ایران سے تیل خریدے، امریکا کی ہر حکومت کی یہ کوشش رہتی ہے کہ وہ ونیزویلا کی حکومت کو کمزور کرے اور ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ سلسلہ دراز ہوگیا حال ہی میں امریکا نے ونیزویلا میں بغاو ت کیلئے کولمبیا کے راستے فوجی دستہ بھیجا لیکن یہ سازش بری طرح ناکام ہوگئی ، امریکا نے دنیا کے مختلف ممالک کے خلاف شدید قسم کی اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جن میں ایران اور وینزویلا بھی شامل ہیں، امریکہ ان ممالک کو اپنے مفادات کیلئے خطرہ اور دشمن ملک تصور کرتا ہے، اس وقت جب پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے تب بھی امریکا نے پابندیوں میں نرمی نہیں کی ،اسی غیرانسانی صورتحال نے امریکی دباو کا شکار ممالک نے باہمی تعاون کے ذریعے ان غیر منصفانہ پابندیوں کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی اپنا لی ہے،اسی حکمت عملی کے تحت ایران نے پٹرول سے بھرے پانچ ٹینکر وینزویلا بھیج دئے ، وینزویلا میں پہلا ایرانی تیل بردار جہاز لنگر انداز ہوا تو ونیزویلا کی حکومت اور عوام نے اس کا بھرپور استقبال کیا، یہ واقع جہاں دو اقوام کے مابین برادری اور اظہار یکجہتی کی علامت ہے، وہاں دنیا میں طاقت کے توازن کے بدلنے کی بھی دلیل ہے،امریکی محاصرے کو علی اعلان توڑنا اس بات کا ثبوت کہ امریکاکی طاقت کا بھرم ٹوٹ رہا ہے ،ایران کے اس اقدام سے تمام مظلوم قوموں کو حوصلہ ملے گا ۔


































