
ایران کی انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ ” علی باقرکنی” نے کہا ہے کہ امریکی آقاؤں نے انسان اور انسانیت کے خلاف تشدد کو بڑھاوا دے کر سلامتی کونسل کو انسانی حقوق کی قربانگاہ میں تبدیل کردیا ہے۔ ” فلسطین کے حامی جوانوں” کے عالمی فورم سے خطاب کرتے ہوئے علی باقرکنی نے کہا کہ امریکی حکومت سترسالوں سے صہیونی حکومت کے غاصبانہ قبضے، جارحیت اور ظلم و بربریت کی حمایت کررہی ہے. علی باقر کنی نے ملت فلسطین کے بنیادی حقوق کے تعلق سے امریکی حکوت کی غیرانسانی پالیسی اور اقدامات کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی جانب سے تیسری مرتبہ بیان جاری کئے جانے کوامریکہ نے ویٹو کردیا جو انسانی حقوق کے سب سے بڑے دعویدار کی جانب سے انسان اور انسانی حقوق کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں استقامت کو ارض مقدس فلسطین کی آزادی کا واحد راہ حل قرار دیتے ہوئے کہا کہ غاصبوں کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے چند خیانت کار اور حقیر عرب حکام کے اقدامات قطعی طور سے علاقے کی اقوام کے لئے نہایت مضر تھے، جس کا اصل مقصد امت مسلمہ کے مال و دولت کے ذریعے صہیونیوں کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ علی باقر کنی نے نہتے فلسطینیوں کے خلاف صہیونی حکومت کے بھاری فوجی حملوں اور عالمی میڈیا کی وسیع خاموشی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی اور ان کے مغربی اتحادی یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ استقامتی محاذ کی آواز کو دبا دیں گے لیکن ان کی توقع کے برخلاف استقامتی محاذ پہلے سے زيادہ قوی اور طاقتور ہے اور صہیونی ماضی کی نسبت کمزور اور ضعیف تر ہیں، اس لئے کہ استقامتی محاذ کی آواز نہ فقط اس خطے بلکہ امریکہ اور یورپی رائے عامہ تک پہنچ رہی ہے۔


































