اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں اسرائیل کے غزہ میں کئے گئے جنگی جرائم کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہوا صیہونی ریاست کے حامیوں نے ایک شوروغوغابرپا کردیا،قرارداد او آئی سی اور فلسطینی وفد کی طرف سے پاکستان نے پیش کی ،جسے 9کے مقابلے میں 24ووٹوں سے منظور کرلیا گیا، حسب توقع امریکا،برطانیہ اور جرمنی سمیت 9ممالک اسرائیل کے ساتھ کھڑے دکھائی دئے ،بھارت ، جاپان،فرانس برازیل سمیت 14ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہ لیکر خود کو غیر جانبدار ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن اصل میں وہ قرار دادکی حمایت نہ کرکے اسرائیلی جنگی جرائم کے حامی بن گئے ،یوں تو غاصب صیہونی حکومت کی ریاستی دہشت گردی اور وحشیانہ طرزعمل ایک زندہ حقیقت ہے،لیکن عالمی اداروں نے امریکی دباو پر ہمیشہ اسے نظرانداز کیا،لیکن اس بار غزہ میں کئے گئے صیہونی ریاست کے بھیانک اور وحشیانہ جرائم نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ،خود امریکا میں لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور اپنی حکومت پر اسرائیل کی جنگی امداد بند کرنے پر زور دیا،یہ اقوام عالم کا ردعمل ہی تھا جس نے انسانی حقوق کونسل میں اسرائیل کیخلاف قرادادکی منظوری کی راہ ہموار کی اور امریکا تمام تر کوششوں کے باوجود قرار داد کو نہیں روک سکا،اقوام متحدہ میں صیہونی نمائندے اور امریکی سفیرقراداد کی منظوری پر پھٹ پڑے اور کونسل کو یہودیت مخالف ادارہ قرار دے ڈالا، اور دعویٰ کیا ہے کہ کونسل کی یہ قرارداد یکطرفہ اور یہودیت مخالف ہے اور انہوں نے تحقیقات میں تعاون نہ کرنے کا اعلان بھی کردیا، مشرقی وسطیٰ میں جاری تنازع پر نظر دوڑائی جائے تو فلسطینیوں پرصہیونیوں کے مظالم کی ایک طویل تاریخ ہے ، غاصب صہیونیوں نے لاکھوں فلسطینیوں کو بے گھر اور جلا وطن کیا، ان کے گھروں کو مسمار یا قبضہ کر لیا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور اس تمام مجرمانہ کارروائیوں میں صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کو دنیا کے سب سے بڑے شیطان امریکا کی بھرپور حمایت حاصل ہے، اسرائیل کی وحشیانہ کارروائی نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزیوں کی واضح مثال ہے، اس طرح کے جرائم، بین الاقوامی قوانین اور بنیادی اصولوں کی واضح خلاف وزری ہیں، اس لئے اس طرح کے گھنا?نے جرائم کا ارتکاب کرنے والے صہیونی عہدیداروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہیئے لیکن عالمی اداروں نے ہر بار اسرائیل کو رعایت دی جس کا نتیجہ اس کے جرائم میں اضافہ ہی ہوتا رہا، نسانی حقوق کونسل کی حالیہ قرارداد سے پہلے عالمی عدالت انصا ف نے بھی واضح اعلان کیا تھاکہ وہ اسرائیل کے فلسطینیوں پر سنگین مظالم اور جرائم کی تحقیقات کا آغاز کر رہی ہے، لیکن ابھی تک کوئی واضح اور عملی اقدام سامنے نہیں آیا،اس کے باوجود امید ہے کہ انسانی حقوق کونسل کی حالیہ قرارداد کا نہ صرف نتیجہ نکلے گا بلکہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے گا۔


































