Sat Oct 10, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

ہندوستان میں یومِ جمہوریہ

ہندوستان آج اپنا 71واں یوم جمہوریہ منا رہا ہے، ہندوستانی میڈیا کے مطابق پورے ملک میں جشن کا سماں ہے۔ جشن کی بھی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ سرکاری، موسمی، ثقافتی وغیرہ۔ لیکن ایک جشن ایسا بھی ہوتا ہے، جو دنیا کی بڑی بڑی جمہوریاوں میں اس ملک کے انسانوں کے حقوق پائمال کرکے، ان کی لاشوں پر رقص کرتے ہوئے منایا جاتا ہے۔ آج جمہوریت، انسانی حقوق، سماجی انصاف اور آزادی بیان کے دہرے معیارات، ان معقول و محبوب اقدار کو داغدار کرچکے ہیں۔ جمہوریت بھی ایک دھوکہ ہے، انسانی حقوق بھی اپنے اہداف و مقاصد حاصل کرنے کا ہتھیار، سماجی انصاف بھی آئیڈئیلزم اور آزادی اظہار بیان تو صرف کتابوں اور بعض افراد کی زبان کی تکرار بن چکا ہے۔ آج کس جمہوریت کی مثال دی جائے، امریکہ کی جمہوریت، جہاں جمہوریت کا نتیجہ ڈونالڈ ٹرامپ کی صورت میں برآمد ہوتا ہے، یا ہندوستان کی جمہوریت، جس میں مودی جیسا قصائی اور فاشسٹ اقتدار تک پہنچ جاتا ہے۔کیونکہ وہ مختلف دلکش نعروں اور تعصب پر مبنی ایک مخصوص ہندوتوا فکر کا پرچار کرکے ہندو ووٹ سمیٹ کر وزیراعظم کے منصب تک پہنچ جاتا ہے۔ ایک جمہوری مثال عراق کی ہے، جہاں جمہوری آواز امریکہ کے انخلاء کی بات کرتی ہے، لیکن امریکا جمہور کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں۔ آج ہندوستان میں یومِ جمہوریہ ہے، اس دن کی مبارکباد ہندوستان کی سرکار کو دی جائے یا کشمیر کی وادی میں بسنے والے ان آزادی پسندوں کو دی جائے، جنہیں جمہور کے نمائندے نریندر مودی نے 5 اگست 2019ء سے آج 25 جنوری تک وادی کے ایک بڑے زندان میں بند کرکے رکھا ہے۔ یا ہندوستان کے یوم جمہوریہ کی مبارکباد متنازعہ شہریت ترمیمی قانون اور سی اے اے اور این آر سی کے خلاف دہلی کے شاہین باغ سمیت ہندوستان کے مختلف علاقوں میں دھرنے پہ بیٹھی خواتین کو دی جائے۔؟آج ہندوستان کے مسلمان، ہندو، عیسائی، سب سڑکوں پر ہیں۔ لیکن جمہور کا نمائندہ نریندر مودی اپنے متنازعہ فیصلے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ایسی جمہوریت جو جائز انسانی حقوق کے راستے میں رکاوٹ ہو، جو سماجی انصاف کی قاتل ہو، جو آزادی اظہار و بیان کی مخالف ہو، کیا وہ حقیقی جمہوریت ہے یا جمہوریت کی روح سے خالی آمریت۔؟ دنیا کے ہر ملک کا یوم جمہوریہ اس قوم کے لیے خوشی کا پیغام ہوتا ہے، اس دن جمہوری رویوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، لیکن اگر یوم جمہوریہ کے جشن میں جمہوریت جمہوریت کا راگ تو الاپا جائے، لیکن جمہور کی گردن میں پڑے پھندے کو ڈھیلا نہ کیا جائے تو یوم جمہوریت سے یوم آمریت بہتر، کیونکہ آمریت کے خلاف قیام پر کوئی جمہوریت مخالف کا الزام تو عائد نہیں کرے گا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular