
تحریر: مہر عدنان حیدر
پہلے پہل جب کوئی مولوی یا دیندار کسی دوسرے مسلک کے مقدسات کی توہین کرتا تو میں یہ سمجھتا کہ یہ یا تو جاہل ہے یا پھر انتہاء پسند سوچ کا مالک ہے، کیونکہ دوسروں کے مقدسات کی توہین یا تو جاہل کرتا ہے یا پھر انتہاء پسند شخص کرتا ہے، مگر جب سے انڈیا کے میجر کا بیان سنا ہے کہ "پاکستان کو ختم کرنے کے لیے میزائلوں کی نہیں بلکہ مولویوں کی ضرورت ہے، جو ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین کریں، تب سے یہ حقیقت مجھ پر آشکار ہوئی ہے کہ دوسرے مسالک کے مقدسات کی توہین کرنے والا لازمی نہیں کہ جاہل یا انتہاء پسند ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ پاکستان کا دشمن اور پاکستان دشمن اقوام کا آلہ کار ہوتا ہے۔ کاش ہم اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے کہ فرقہ پرستی سرے سے اسلام کے خلاف ہے اور دوسرا یہ انسان کے بھی خلاف ہے اور تیسرے نمبر پر یہ پاکستان کے امن کے بھی خلاف ہے۔
اسلام کے خلاف اس لیے کہ اگر فرقہ واریت کو دیکھا جائے تو اس نے اسلام کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی، کیونکہ ہمارا دعویٰ ہے کہ اسلام تشدد اور نفرت کے خلاف ہے۔ جب کوئی غیر مسلم ہماری مذہبی اور فرقہ وارانہ لڑائی کے بارے میں سنتا ہے تو وہ لازمی سوچتا ہے کہ اسلام تشدد اور نفرت کے کہاں خلاف ہے، بلکہ یہ لوگ تو ایک دوسرے کو مسلمان ہی نہیں مانتے۔ دوسرا یہ کہ یہ ایک غیر انسانی فعل ہے۔ وہ اس لئے کہ جب ہم انسان کے بارے میں سوچتے ہیں تو فرقہ پرست انسان، انسان کو انسان ہی نہیں سمجھتا، بلکہ وہ تو فقط اس شخص کو ہی انسان سمجھتا ہے، جو اس کے مسلک اور نظریہ کا حامی ہو، اس لیے اسے اپنے مسلک کے سوا ہر شخص کافر اور واجب القتل لگتا ہے۔
تیسرا یہ کہ پاکستان کو اب بیرونی دشمن سے اتنا خطرہ نہیں، اگر ہو بھی تو پاکستانی افواج ان دشمنان کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب پاکستان کے اندر امن ہو اور فرقہ واریت کا پہلا کام پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانا ہے۔ اسی لئے دیگر اقوام یہ بات اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ پاکستان کو داخلی مسائل میں الجھا کر ہی وہ اپنے عزائم میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔ تبھی وہ پاکستان میں مختلف مسالک کے مقدسات کی توہین کروا کر اپنے مقاصد کو کامیاب کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اسی لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں رہنے والے تمام مسالک کے علماء فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں اور پاکستان میں اتحاد اور وحدت کی فضا قائم کریں، کیونکہ اگر رسول کریم ظاہری طور پر ہم میں ہوتے تو وہ لوگوں کو اتحاد اور وحدت کا درس دیتے۔


































