
میری حکمت عملی یہ ہے کہ ہم مل کر اقوام متحدہ، یورپی یونین سمیت مختلف فورمز پر دنیا کو یہ سمجھائیں کہ آزادی اظہار کے نام پر گستاخی سے تکلیف پہنچتی ہے
بدقسمتی سے سیاسی اور دینی جماعتیں اسلام کا غلط استعمال کرتی ہیں اور اپنے ملک کو نقصان پہنچایا جا تا ہے،کیا فرانسیسی سفیر کو نکالنے سے دوبارہ گستاخی نہیں ہوگی
اسلام آباد( نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے توہین رسالت کیخلاف عالمی مہم چلانے کا اعلان کردیا،قوم سے خطاب میں کہا کہ مسلم دنیا کو مل کر مغرب کو سمجھانا ہو گا کہ یہ آزادی اظہار کا مسئلہ نہیں ،میں اس کی ذمہ داری لیتا ہوں ، اس مہم کی قیادت کروں گا، میری حکمت عملی یہ ہے کہ ہم مل کر اقوام متحدہ، یورپی یونین سمیت مختلف فورمز پر دنیا کو یہ سمجھائیں کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر گستاخی سے مسلمانوں کو کس قدر تکلیف پہنچتی ہے،ہمیں دنیا کو یہ بات سمجھانے کے لئے مل کر کوشش کرنا ہو گی ،انہوں نے کہاکہ کسی اسلامی ملک میں کہیں بھی اس طرح کے مظاہرے نہیں ہوئے نہ کسی نے سفیر کو واپس بھیجا،جرم کہیں اورکسی کا ہو اور ہم اپنے اوپر خودکش حملہ کردیں،یہ کہاں کی عقلمندی ہے، سفیر کو نکالنے اور فرانس سے تعلقات منقطع کرنے سے فرانس کا کچھ نہیں بگڑے گا، نقصان ہماراہوگا،کیا گارنٹی ہے کہ سفیر کو واپس بھیجنے سے دوبارہ گستاخی نہیں ہوگی،وزیراعظم نے کہاکہ اگر 50مسلمان ملک مل کر یہ کہیں گے کہ اگر گستاخی کی گئی تو ہم ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں گے تبھی ہماری بات میں وزن ہو گا اوریہ مسئلہ حل ہوگا، ہمارے ملک میں بدقسمتی سے سیاسی اور دینی جماعتیں اسلام کا غلط استعمال کرتی ہیں اور اپنے ملک کو نقصان پہنچایا جا تا ہے،(ن) لیگ اور مولانا فضل الرحمن کی جماعت بھی حکومت کو نقصان پہنچانے کے لئے ساتھ مل گئے،انہوں نے کہاکہ 1990میں سلمان رشدی نے کتاب لکھی جس میں نبی کریم ص کی شان میں گستاخی کی گئی، پاکستان میں عوام اس کے خلاف سڑکوں پر نکلے،اس کے بعد سے ہر چند سال بعد مغرب کے کسی نہ کسی ملک میں گستاخی کا واقعہ رونما ہوتا ہے جس کے خلاف ہمارے ملک میں بھی مظاہرے ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں ردعمل آتا ہے لیکن کیا اس اپروچ سے کوئی فرق پڑا ہے؟۔


































