
سوئیڈن کے شہر مالمو میں قرآن جلانے کی ناپاک جسارت ، فسادات پھوٹ پڑے، مظاہرین کا پولیس پر پتھراو ¿ ، کئی تنصیبات اور گاڑیوں کو آگ لگادی
ناروے میں اسلام مخالف ریلی ،قرآن کے اوراق پھاڑ دئے گئے، فرانسیسی جریدے چارلی ایبڈو نے پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکے دوبارہ شائع کردئے
پیرس/اسٹاک ہوم(نیوز ڈیسک)مغرب میں ایک بار پھر اسلام کے خلاف منظم مہم شروع کردی گئی ہے ،سوئیڈن اور ناروے میں قرآن سوزی کے واقعات پیش آئے جبکہ فرانس میں جریدے نے توہین آمیز خاکے دوبارہ چھاپ دئے،تفصیلات کے مطابق سوئیڈن کے شہر مالمو میں قرآن پاک کو جلانے کی ناپاک جسارت کی گئی ،واقعہ کے بعد فسادات پھوٹ پڑے، تقریباً 300 افراد نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے پولیس پر پتھراو ¿ کیا اور کئی تنصیبات اور گاڑیوں کو آگ لگادی، احتجاج ٹھیک اسی جگہ کیا گیا جہاں مقدس کتاب کو جلایا گیا تھا،قرآن جلانے کی تقریب میں ڈنمارک کی تارکین مخالف پارٹی ‘ہارڈ لائن’ کا رہنما ملعون راسموس پالوڈن شرکت کرنے والا تھا تاہم اسے حراست میں لے کر واپس بھیج دیا گیا، سوئیڈن کے بعد ناروے میں بھی اسلام مخالف ریلی نکالی گئی اور قرآن کے اوراق پھاڑ دئے گئے ، ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں اس وقت صورت حال کشیدہ ہوگئی جب اسلام مخالف مظاہرین نے مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کے اوراق پھاڑ دیے، پولیس نے فریقین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ تیس افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے قرآن کے اوراق پھاڑنے والی خاتون کو پہلے بھی نفرت انگیز تقاریر کرنے پر جرمانہ کیا جا چکا ہے، اس کے بعد وہاں موجود افراد نے اسلام مخالفین پر انڈے برسائے اور بعض نے پولیس رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اس خاتون تک پہنچنے کی کوشش کی، پولیس نے صورتحال کو بے قابو ہوتے دیکھ کر پیپر اسپرے کا بھی استعمال کیا اور اسلام مخالف ریلی وقت سے پہلی ہی ختم کر دی گئی، دوسری جانب فرانسیسی جریدے چارلی ایبڈو نے پیغمبر اسلام کے وہ خاکے پھر سے شائع کیے ہیں جن کی بنا پر 2015 میں اس پر حملہ ہوا تھا ،میگزین نے یہ اشاعت ایسے موقع پر کی ہے جب حملے میں ملوث دو شدت پسندوں کی مدد کرنے والے 14افرادکیخلاف مقدمے کا آغاز ہوا ہے، حملے میں12 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں خاکے بنانے والا مشہور کارٹونسٹ بھی شامل تھا ،چارلی ایبڈو کے تازہ ترین جریدے کے سرِورق پر وہ خاکے دوبارہ شائع کیے گئے ہیں جو اس سے قبل ایک ہالینڈ کے اخبار میں چھاپے گئے تھے، جریدے نے اپنے ادارئے میں لکھا کہ 2015 کی ہلاکتوں کے بعد انھیں مسلسل یہ خاکے چھاپنے کیلئے کہا جاتا رہا ہے ،ہم ایسا کرنے سے انکار کرتے رہے اس لیے نہیں کہ اس پر کوئی ممانعت تھی، قانون ہمیں اس کی اجازت دیتا ہے لیکن ایسا کرنے کی کوئی وجہ ہونی چاہیے تھی ،اب حملوں کا مقدمہ شروع ہونے سے قبل خاکے دوبارہ شائع کرنا ضروری تھا۔


































