اس بزرگ خاتون کی ساری زندگی دیہات میں گزری تھی وہ پہلی بار جہاز میں سوار ہوئی تھی اس نے اپنی بیٹی اور داماد سے ملنے شہر جانا تھا جہاز میں میرے برابر والی سیٹ اسے مل گئی،جہاز کا عملہ کھانا لیکر آ گیا اس نے پہلی بار ایسا کھانا دیکھا تھا وہ مخصوص ٹشو کی پیکٹ کھول کر چبانے لگ گئی لیکن اسے جلد احساس ہوا کہ کچھ غلط ہوگیا وہ شرمندہ ہو کر میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میں ان پر یہ ظاہر کر رہا تھا کہ گویا میں نے کچھ نہیں دیکھا پھر چند سیکنڈ کے بعد میں نے بھی ٹشو کا پیکٹ کھولا اور منہ میں ڈالا وہ زور زور سے ہنس پڑی اور مجھے روکنے لگی۔میں نے ان سے کہا کہ ماں جی آپ کو پتا تھا تو مجھے پہلے کیوں نہیں بتا دیا وہ ہنستے ہوئے بولی بیٹا میں نے بھی اسے کھانے والی کوئی شے سمجھ کر منہ میں ڈال دیا تھا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ یہ ٹشو ہے، وہ جانتا تھا چند گھنٹے بعد یہ سفر ختم ہوگا وہ جانتا تھا کہ یہ عمر رسیدہ خاتون ان کی کچھ نہیں لگتی ہے لیکن پھر بھی اس جوان نے اس مختصر سفر میں بزرگ خاتون کی شرمندگی مٹا دی، ان کے سفر کو خوشگوار بنا دیا۔پیارے بچو! بے غرض ہو کر لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنا بہت خوبصورت احساس اور بہترین نیکی ہے۔
- Home
- بچوں کا نوائے اسلام
- لوگوں کے لیے راحت کا سبب بنیں نہ کے شرمندگی…
لوگوں کے لیے راحت کا سبب بنیں نہ کے شرمندگی کا
-
Ilyas - فروری 11, 2021
- بچوں کا نوائے اسلام
- 5
- 0 minute read


































