تحریر: محمد سلمان مہدی
منگل چار اگست 2020ءکو لبنان ایک سانحہ سے دوچار ہوا، جس میں پانچ ہزار سے زائد زخمی اور درجنوں لاپتہ ہوچکے ہیں۔ البتہ مرنے والوں کی تعداد آخری اطلاعات تک 137 بتائی گئی تھی۔ زخمیوں کی اتنی بڑی تعداد کے پیش نظر یقیناً اموات کی تعداد میں بھی اب تک اضافہ ہوچکا ہوگا۔ یہ تو ہوئیں وہ خبریں جو ایک عام آدمی بھی جانتا ہی ہوگا، لیکن لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر جو کچھ ہوا، کیا یہ محض ایک اتفاقی دھماکہ تھا۔ اگر عالمی و علاقائی سیاسی ڈیولپمنٹس کو مدنظر رکھیں تو بیروت بندرگاہ سمیت پورا لبنان یا پورا خطہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا ایک منظم سازش کی لپیٹ میں ہے اور یہ سازش کیا ہے، اس تحریر میں اختصار کے ساتھ وہ معلومات شامل کی جا رہی ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ ذہن میں رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندگان کے سامنے آن ریکارڈ کہا کہ امریکی فوجی جرنیلوں کو لگتا ہے کہ بیروت میں جو کچھ ہوا، یہ اٹیک یعنی حملہ تھا۔ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا نہیں ابھی کچھ بھی نہیں کہہ سکتے، لیکن ان کے بیان کے بعد وائٹ ہاو ¿س کے چیف آف اسٹاف نے صدر ٹرمپ کے موقف کا دفاع کیا کہ یہ اٹیک تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر دفاع خود(اس حوالے سے کچھ بھی) نہیں جانتے۔(حوالہ: این بی سی ٹی وی چینل وڈیو رپورٹ)
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق بیروت میں دھماکہ لبنان کے مقامی وقت کے مطابق شام کے 6 بجے ہوا، لیکن منگل چار اگست کو اسرائیلی وزیراعظم کے آفیشل ٹوئٹر اکاو ¿نٹ پر شام کے چار بج کر نو منٹ پر جو دو ٹوئیٹس موجود ہیں، وہ پڑھ لیں۔ البتہ انہوں نے اس سے پہلے کیا کیا، یہ اسرائیلی وزیراعظم نے چار بج کر آٹھ منٹ پر ٹوئیٹ میں موجود ہے۔ ترتیب کے ساتھ انگریزی ٹوئیٹس پیش ہیں:
https://twitter.com/IsraeliPM/st
atus/1290605488665554944
PM of Israel
@IsraeliPM
PM Netanyahu: "I have just finished a tour of IDFHFC along with the Defense Minister. I was deeply impressed by the industrial enterprise here for cutting the chain of infection. Great efforts are being made here.
4:08 PM · Aug 4, 2020·Twitter Web App
https://twitter.com/
IsraeliPM/status/129060
5718429749249
PM Netanyahu: "These are not vain words; they have the weight of the State of Israel and the IDF behind them and this should be taken seriously.”
4:09 PM · Aug 4, 2020·Twitter Web App
https://twitter.com/IsraeliPM/st
atus/1290605716911337473
Prime Minister Netanyahu: "We hit a cell and now we hit the dispatchers. We will do what is necessary in order to defend ourselves. I suggest to all of them, including Hezbollah, to consider this.
4:09 PM · Aug 4, 2020·Twitter Web App
https://twitter.com/IsraeliPM/st
atus/1290605718429749249
انہوں نے اسرائیل کے سارے مخالفین کو کھلی دھمکی دی کہ انہوں نے ایک سیل کو ہٹ کیا اور اب ڈسپیچرز کو ہٹ کرنا ہے۔ مزید کہا کہ وہ یعنی اسرائیلی وزیراعظم، ان کی فوج اور (پوری ریاستی مشنری) اسرائیل کو بچانے کے لیے جو کچھ ضروری ہوا، وہ کریں گے اور اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ بیروت سمیت پوری دنیا کو لگ پتہ گیا۔ اس نوعیت کی تباہ کن سازش سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ اسرائیل اور اسکے سرپرست، دوست اور اتحادی مرجاو ¿ یا مار دو والے آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ اب وہ مارکر بھی مان نہیں رہے، یعنی خوفزدہ بھی ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ایسی تباہ کن تخریب کاری کی ذمے داری قبول کرنا منقسم عالمی رائے عامہ کو بھی انکے خلاف کرنے کا سبب بنے گی اور یہ بھی معلوم ہے کہ عرب و مسلمان دنیا کی طرف سے اپنی امریکی اتحادی حکومتوں پر دباو ¿ میں شدت آئے گی اور ساتھ ہی یہ کہ لبنان اور فلسطین کی مزاحمت مقبوضہ عرب علاقوں کی آزادی اور ایسے حملوں کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل پر حملہ آور ہوں گے۔ لہٰذا انہوں نے سانحہ بیروت کی ذمے داری قبول نہیں کی۔
انہوں نے جس طرح کا پروپیگنڈا کیا، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بیروت پر اٹیک کی وجہ اسرائیل اور امریکا اور ان کے اتحادیوں کے پاس بعض انٹیلی جنس معلومات تھیں۔ یعنی انہیں خبر ملی ہوگی کہ اس وقت حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ مشرقی بیروت میں موجود ہیں۔ اسی لیے حزب اللہ کے مخالف ذرائع ابلاغ کی جانب سے بھی اور سوشل میڈیا پر بھی سید حسن نصر اللہ سے متعلق فیک نیوز چلوائیں گئیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مس کیلکیولیشن ہوئی ہو۔ یعنی جو اصل ہدف تھا، اس کے لیے یہ تخریب کاری کی گئی ہو، لیکن تخریب کار اپنے اہداف میں ناکام رہے ہوں اور لینے کے دینے پڑگئے۔ ضروری نہیں کہ اسرائیل نے میزائل مارا ہو یا نیوکلیئر حملہ ہی کیا ہو۔ اگر یہ اس گودام میں آگ کی وجہ سے ہوا ہے تو کوئی بھی اس گودام میں یہ کارروائی کرسکتا تھا۔ البتہ بعد کے حالات بھی اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ یہ تباہی پہلے سے طے شدہ تھی۔
جس طرح فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے لبنان میں انٹری ڈالی اور جس طرح لبنان مخالف ذرائع ابلاغ نے ان کی میڈیا پروجیکشن کی، اس سے تو لگتا ہے کہ کوئی سپرمین، بیٹ مین ٹائپ کی کوئی ہستی وہاں نازل ہوئی ہے اور اس نے اب سب ٹھیک کر دیا ہے اور مضحکہ خیز نکتہ یہ ہے کہ اب ہر طرف سے لبنان کے نئے سیاسی نظام کا نعرہ لگ رہا ہے۔ کوئی فرانس اور سعودی عرب سے یہ تو پوچھے کہ لبنان میں اب تک جو سیاسی نظام تھا یا اب تک جو قومی مفاہمت کے فارمولا کے تحت بٹوارہ کیا گیا، وہ کس نے کیا تھا!؟ یہ فرانس اور سعودی عرب ہی تو تھے جو لبنان کے اصل حاکم بنے ہوئے تھے۔ لیکن کیا فرانس اور سعودی عرب نے لبنان کا دفاع کیا!؟ کیا 1978ءمیں فرانس اور سعودی عرب لبنان کو اسرائیل سے بچانے آئے، کیا ان دونوں نے اسرائیل کو سزا دی!؟ کیا اقوام متحدہ نے اسرائیل کو لبنان میں گھس کر قبضہ کرنے اور لبنانیوں کا قتل عام کرنے کی سزا دی۔ بعد کی جنگوں کو تو چھوڑ ہی دیں۔ کیا یہ عرب لیگ اور خود سعودی عرب اور انٹرنیشنل کمیونٹی نہیں تھی، جو لبنان کی خانہ جنگی کے دوران شام کو لبنان میں لائے!؟ اگر لبنان میں شام کا آنا غلط تھا، تب بھی ذمے دار سعودی عرب اور فرانس سمیت یہ نام نہاد انٹرنیشنل کمیونٹی ہی تھی۔
یہ کس طرح لبنان کے مسائل حل کرسکتے ہیں۔ ان کا تو ہدف ہی اسرائیل کے مفادات کا تحفظ ہے اور آج بھی اگر یہ لبنان سے ہمدردی کا ڈرامہ کر رہے ہیں تو مقصد یہی ہے کہ اسرائیل کے مفادات کا تقاضا یہی تھا کہ وہ اب اس ڈرامے کی نئی قسط میں یہی کردار ادا کریں۔ لبنان کی موجودہ حکومت جیسی بھی تھی، اس نے لبنان کی قومی غیرت اور آزادی و خود مختاری کا دفاع کیا۔ لبنان کی موجودہ حکومت نے لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے والے ہر ملک کا راستہ روکا۔ اسی حکومت نے امریکا کی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا۔ اسی حکومت نے جرمنی کی حکومت کی لبنان دشمن پالیسی پر شدید احتجاج کیا اور جرمن سفیر کو بھی وزارت خارجہ طلب کیا۔ لبنان کو اقتصادی مشکلات سے دوچار کرنے والے خود یہی ممالک ہیں یا ان کے حمایت یافتہ مقامی بدعنوان سیاستدان و حکام۔
آج بیروت میں لبنان میں قومی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے خلاف سڑکوں پر لوگ احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ فرانس کے صدر کا پرتپاک استقبال کیا جا رہا ہے۔ یہ دو منظر ہی اس کھلی حقیقت کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں کہ لبنان کے سکیورٹی اداروں کے خلاف سازش میں بھی یہی اسرائیل دوست مغربی اور عرب ممالک شامل ہیں۔ سانحہ بیروت کی تحقیقات میں ایک زاویہ یہ بھی ہونا چاہیئے کہ لبنان کے زیر سمندر قدرتی ذخائر کو تو ہدف نہیں بنایا گیا!؟ سمندر کی تہہ میں جو گیس کے ذخائر ہیں، یا جو دیگر قدرتی ذخائر ہیں، جس پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا تھا، وہاں تو کچھ گڑ بڑ نہیں کی گئی۔ یعنی ایسا دھماکہ کیا کہ زیر سمندر ذخائر کا رخ لبنان سے اس حد میں جا پہنچے جو نام نہاد انٹرنیشنل لاء کے مطابق اسرائیلی سمندر ہے۔
میری نظر میں اسرائیل دوست امریکی مغربی و عربی زایونسٹ بلاک نے سانحہ بیروت کے ذریعے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اس صورتحال کے چند رخ ہیں، جنہیں بیان کیا گیا، مزید حقائق گلی قسط میں علاقائی و عالمی سیاسی صورتحال کے تناظر میں پیش کریں گے۔ لیکن اشارتاً یہ حقیقت ہرگز فراموش نہ کریں کہ لبنان، فلسطین، شام سمیت یہ پورا خطہ جن مشکلات کو بھگتتا رہا ہے، اس کے اصلی ذمے دار برطانیہ، فرانس، امریکا، سعودی عرب اور دیگر اتحادی ہی ہیں اور ان تمام بحرانوں کی جڑ سائیکس پیکو معاہدہ ہے اور موجودہ بحران اسی سائیکس پیکو معاہدے کی توسیع یا تسلسل ہے یا یوں کہہ لیں کہ اس کے تحت جو مراحل نامکمل رہ گئے تھے، ان کی تکمیل کے لیے انسانیت، اسلام اور عربوں کے دشمن مار دو یا مرجاو ¿ والے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیل آف دی سینچری کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ طبل جنگ بجا دیا گیا ہے۔ مگر افسوس کہ دنیا کے انسانیت دوست عوام اور اسلامی مزاحمتی تحریکوں کے ہمدرد تاحال درست تحلیل کرکے اپنی ذمے داری انجام دینے میں سستی سے کام لے رہے ہیں۔
حوالہ جات:
https://www.nbcnews.com/no
w/video/trump-says-u-s-generals-be
lieve-beirut-ex
plosion-was-an-attack-89547333756
https://www.politico.com/news/2
020/08/05/mark-
esper-beirut-lebanon-explosion-391987
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں بندرگاہ کے مقام پر جو دھماکہ یا حملہ ہوا، اس حوالے سے پچھلی قسط میں عرض کیا گیا کہ اگر یہ حملہ تھا، جیسا کہ امریکی جرنیلوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا، تو یقیناً اس حوالے سے حملہ آور کے پاس غلط معلومات تھیں۔ یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ حملہ آور یعنی اسرائیل نے اس گودام کو حزب اللہ کے اسلحے کا گودام سمجھ کر تخریب کاری کی ہو۔ کیونکہ پچھلے چند دنوں سے اسرائیل نے تواتر کے ساتھ دھمکیاں دیں تھیں اور سانحہ بیروت کے فوری بعد میڈیا اور سیاستدانوں کے ایک ٹولے نے بغیر کسی تحقیق کے اسرائیل کا موقف دہرانا شروع کر دیا تھا۔ حزب اللہ پر الزامات یا حزب اللہ سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ہوا اور اسی منصوبے پر ابھی تک مرحلہ وار عمل جاری ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ لبنان میں سیاسی عمل کو مفلوج کر دیا جائے۔ حکومت کو معطل کر دیا جائے، پارلیمنٹ کو معلق کر دیا جائے اور لبنان کو ایک اور مرتبہ بغیر منتخب جمہوری حکومت اور پارلیمنٹ کے رکھ کر اہم فیصلوں پر لبنانی قوم کو مزید منقسم کر دیا جائے۔
اب تک 6 اراکین پارلیمنٹ مستعفی ہوچکے ہیں۔ اس ضمن میں اسرائیل نواز القوات اللبنانیہ کے سربراہ سمیر جعجع نے کہا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اراکین پارلیمنٹ کے استعفیٰ پر کام کر رہے ہیں، تاکہ قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کی راہ ہموار کی جاسکے۔ لبنان میں مئی2018ءمیں انتخابات ہوئے تھے اور 11 فروری 2019ءکو یعنی نو ماہ کے طویل وقفے کے بعد پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لے کر لبنان کی نئی حکومت قائم ہوئی۔ لبنان کی نئی حکومت کے خلاف سازش تیار کے عنوان سے ہم نے 17 فروری 2020ءکو اسلام ٹائمز میں ایک مقالے کی صورت میں پیشن گوئی کر دی تھی کہ امریکی بلاک لبنان میں ایسے کسی سیٹ اپ سے راضی نہیں ہوگا کہ جو اسرائیل کو دشمن قرار دیتا ہو۔ چونکہ اسرائیل کے خلاف حزب اللہ ایک موثر مزاحمتی تحریک ہے، اس لیے امریکی بلاک ہر لبنانی حکومت سے یہی ایک مطالبہ رکھے گا کہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی کرے۔ بالکل اسی طرح ہوا۔ اسرائیل اور اس کے ہمنوا لبنان کی آزادی و خود مختاری کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ وہ لبنانی عوام کو انکی آزاد و خود مختار حیثیت کی سزا دیتے آرہے ہیں، ماضی اس پر گواہ ہے۔
کہنے کو پوری دنیا میں کورونا اور سماجی فاصلہ و احتیاطی تدابیر کا شور مچایا جاتا رہا، لیکن لبنان میں کورونا وائرس کے ہوتے ہوئے ایک طبقہ لبنانی وزارت خارجہ پر قبضہ کرچکا ہے۔ ریٹائرڈ آرمی افسران کی قیادت میں ہفتہ 08 اگست کو اشرافیہ علاقے میں لبنانی وزارت خارجہ کی عمارت پر قبضہ ہوچکا ہے اور غیر قانونی قابضین نے اسے انقلاب کا ہیڈکوارٹر قرار دیا ہے۔ یعنی لبنان کو ایک نئے طریقے سے شام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یعنی باقاعدہ خانہ جنگی کی سازش، جبکہ لبنان ایک طویل المدت خانہ جنگی سے بڑی مشکل سے باہر نکلا ہے۔ وزیراعظم حسن دیاب نے مستعفی ہونے کے خواہشمند وزراءسے بروز اتوار 09 اگست ملاقات کی ہے۔ خاتون وزیر اطلاعات پہلے ہی مستعفی ہوچکیں ہیں اور وزیراعظم بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ قبل از وقت انتخابات کی تجویز رسمی طور پر دیں گے۔ البتہ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ اختلافات کو پس پشت ڈال کر اصلاحات پر مل کر کام کریں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کہا کہ دو ماہ مزید وزارت عظمیٰ پر رہنے کے لیے تیار ہیں۔ ممکن نہیں کہ اس طرح بحران ٹل جائے یا مشکل حل ہو جائے۔ اس کا تعین لبنان کی دشمن طاقتیں امریکا کی قیادت میں کر رہیں ہیں۔
لبنان کے دشمن اور اسرائیل کے دوست سانحہ بیروت کی آڑ میں ایک نئے سیاسی بحران کو جنم دینے کے جتن کر رہے ہیں، حالانکہ سانحہ بیروت میں حزب اللہ کے افراد بھی شہید و زخمی ہوئے ہیں۔ اس زاویے سے دیکھیں تو دشمن کی چالیں کامیاب دکھائیں دیتیں ہیں۔ لیکن ساتھ ہی امریکی بلاک کی غیر منطقی و غیر منصفانہ لبنان پالیسی کی حقیقت بے نقاب بھی ہو رہی ہے۔ امریکی بلاک دنیا کے سامنے یہ تاثر دیتا رہا ہے کہ وہ لبنانی ریاستی اداروں اور خاص طور پر مسلح افواج کے ساتھ ہے، لیکن سانحہ بیروت کے بعد امریکی بلاک بین الاقوامی تحقیقات کا شوشہ چھوڑ رہا ہے۔ یعنی امریکی بلاک کو خود کو لبنان کے ریاستی اداروں پر اعتماد نہیں ہے۔ اسی طرح بعض حلقے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ عرب بین الاقوامی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعے انکوائری ہو۔ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحاد کی پریشانیاں کے عنوان سے ہم 24 نومبر 2019ءکو یہ عرض کرچکے کہ لبنان و عراق سے امریکا کی ناراضگی کی ایک وجہ چائنا فیکٹر بھی ہے۔ امریکی بلاک لبنان و عراق کے چائنا کے ساتھ تعلقات میں توسیع کا مخالف ہے۔ اسی طرح وہ روس کے ساتھ دیگر مسلم ممالک کے اچھے کاروباری تعلقات رکھنے والوں کو بھی بلیک میل کرتا رہا ہے۔
سانحہ بیروت کے ساتھ یا اس سے ایک آدھ دن پہلے یا بعد میں روس اور چین کے خلاف بھی امریکی حکومت نے اقدامات کئے۔ چین کو بلیک میل کرنے کے لئے امریکی وزیر صحت الیکس آذر نے دورہ تائیوان کا اعلان کر دیا تھا۔ جس وقت یہ سطور تحریر کی جا رہیں ہیں تو وہ تائیوان پہنچ چکے تھے۔ اسی طرح وہ روس کے نورڈ اسٹریم2 گیس پائپ لائن پروجیکٹ کو ختم کرنے میں کامیاب ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یعنی وہ یورپ میں بھی روس کے کردار کو ناپسند کرتا ہے۔ امریکی مغربی بلاک اسی طرح بیک وقت پوری دنیا میں کسی نہ کسی محاذ کو اولیت دے کر سبھی کو مصروف رکھتا ہے اور بلیک میلنگ کے ذریعے کہیں سودے بازی کرتا ہے اور کہیں کوئی مفاد حاصل کر لیتا ہے۔ ماضی بعید کی بجائے محض اکیسویں صدی کے آغاز سے دیکھیں تو بین الاقوامی سیاست میں امریکی بلاک روس اور چین کو بلیک میل کرکے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی مفاد کا تحفظ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ مثال کے طور پر ایران پر اقوم متحدہ کی متفقہ پابندیاں۔ اگر روس اور چین یا ان میں سے کوئی ایک ویٹو کر دیتا تو پابندی نہ لگتی، لیکن انہوں نے پابندی لگنے دی۔ سبب کیا بنا۔ یوکرین اور جارجیا کے ایشوز پیدا ہوئے، چیچنیا وغیرہ کے ساتھ بھی گاہے بگاہے تنازعہ ہوتا رہا ہے۔ چائنا کو بلیک میل کرنے کے لیے پہلے شمالی کوریا کا ایشو کھڑا کیا جاتا رہا۔ ورنہ تبت، ہانگ کانگ اور تائیوان ایشوز موجود ہیں۔
لیکن اس مرتبہ بعض تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ چائنا اور روس امریکی بلاک کو مسترد کرکے اپنی منوائیں گے، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن لمحہ موجود کی حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کے مفاد میں لبنان کو ایک اور مرتبہ اکھاڑہ بنانے کی منظم سازش تیار ہوچکی ہے اور فرانس اور سعودی عرب ایک اور مرتبہ بادشاہ گر کی اپنی پرانی حیثیت جتا رہے ہیں۔ حالانکہ اب حزب اللہ بھی لبنان میں ناقابل نظر انداز قانونی سیاسی اسٹیک ہولڈرز میں سے ایک ہے اور اگر اس مرتبہ مارا ماری تک بات گئی تو کئی محاذ کھلیں گے۔ مقبوضہ فلسطین، مقبوضہ جولان اور لبنان کے مقبوضہ علاقوں کی آزادی کی مشترکہ مسلح تحریک شروع ہوسکتی ہے اور قوی امکانات ہیں کہ آزادی کی یہ جنگ اس مرتبہ ان علاقوں میں بھی لڑی جائے گی، جن پر اسرائیل کے قبضے کو امریکا یا دنیا نے قانونی تسلیم کر رکھا ہے۔ یقیناً دونوں طرف سارے امکانات مدنظر رکھے جا رہے ہوں گے۔
ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ لبنان کے عوام کو اس سے کیا فائدہ ہوگا، تو جواب یہ ہے کہ فرانس اور سعودی عرب کے بادشاہ گر رہنے کے اس طویل عرصے میں انہیں کیا فائدہ ہوا۔ لبنان کے سیاہ و سفید کے مالک وہ بن بیٹھے اور کٹھ پتلیوں کے ذریعے حکومت کرتے رہے۔ لبنانیوں کو لڑواتے رہے اور اسرائیل کا الو سیدھا کرتے رہے۔ کیا سانحہ بیروت سے پہلے لبنان کی اقتصادی مشکلات نہیں تھیں۔ عالمی مالیاتی نظام کے تحت عالمی مالیاتی اداروں نے اور لبنان میں مذکورہ غیر ملکی طاقتوں کے مقامی آلہ کار سیاستدانوں اور حکام نے مالی بدعنوانیوں کے ذریعے ہی لبنان کی لٹیا ڈبونے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ عالمی سامراج تقسیم کرو اور حکومت کرو کے نظریئے کا پیروکار ہے۔ دیگر آزاد و خود مختار ممالک پر قبضہ کرکے وہاں کی اقتصادی آزادی سلب کرکے کسی بھی قوم کو قومی غیرت و خود مختاری سے بھی محروم کر دیتا ہے۔ پہلے تباہی پھیلاتا ہے، جیسا عراق و افغانستان، لبیا وغیرہ میں کیا اور بعد میں تعمیر نو کے بہانے مداخلت کرتا ہے۔ پوری دنیا کے باشعور خواص اس تلخ حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ لبنانی قوم کو بھی اس کا تجربہ ہے۔ سائیکس پیکو معاہدے کے تحت جو نامکمل رہ گیا تھا، اسے ڈیل آف دی سینچری کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے یہ سب کھیل کھیلا جا رہا ہے اور اس کی زد پر دیگر عرب علاقے بھی آنے ہیں۔ خدا خیر کرے۔


































