Sat Oct 10, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

غاصب صہیونی رژیم یمن سے خوفزدہ کیوں؟

تحریر: عبدالباری عطوان (چیف ایڈیٹر اخبار رای الیوم)

کل بروز جمعہ 7 مئی کے دن جمع? الوداع کے موقع پر یمن میں ملکی سطح پر اور وسیع پیمانے پر قدس ریلی منعقد ہوئی۔ فلسطین میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس کے اعلی سطحی رہنما اسماعیل رضوان نے پرشکوہ انداز میں یوم القدس منانے پر یمنی قوم کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔ اس ریلی میں "مردہ باد اسرائیل” اور "مردہ باد امریکہ” کے فلک شکاف نعروں نے امریکی اور اسرائیلی ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یمنی قوم جو ایک عرصے سے شدید اقتصادی پابندیوں اور محاصرے کا شکار ہے اور غذائی قلت سمیت دیگر بحرانوں سے روبرو ہے لیکن اس کے باوجود بھرپور انداز میں یوم القدس کی مناسبت سے قدس ریلی کا اہتمام کرتی ہے۔ یمن میں منعقد ہونے والی قدس ریلی کا انداز ہی الگ تھا اور خاص جذبے کی عکاسی ہو رہی تھی۔
 جب یمن کے مختلف شہروں سے کروڑوں کی تعداد میں افراد دارالحکومت صنعا کا رخ کرتے ہیں اور سالانہ قدس ریلی میں شریک ہو کر "مردہ باد امریکہ” اور "مردہ باد اسرائیل” کے نعرے لگاتے ہیں تو اسرائیلی حکام پریشان ہونے میں حق بجانب ہیں۔ اس ریلی میں یمنی اور فلسطینی پرچم ساتھ ساتھ دکھائی دیتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے یمنی اور فلسطینی دونوں قومیں مشترکہ دشمن کے مقابلے میں ایک جیسے جذبات کا اظہار کرتی ہیں۔ ایسا دشمن جس نے امت مسلمہ کے حال اور مستقبل کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ یمنی مظاہرین کے نعرے کس قدر خوبصورت اور شیرین ہیں۔ ان نعروں میں واضح ترین، دوستانہ ترین اور شدید ترین عبارتیں استعمال ہوئی ہیں۔ بعض نعروں میں کہا جاتا ہے: "اے ملت حکمت اور ایمان، روز قدس ایک علامت ہے۔”
 یمن کے دارالحکومت صنعا میں منعقد ہونے والی قدس ریلی میں لگائے گئے دلچسپ نعروں میں سے چند ایک پر توجہ کریں۔ "سازباز کرنے والی قوتوں کو کہہ دیں کہ ہمارا حق ضائع ہو جائے گا”؛ "اسرائیل سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے والے عرب حکمران جارح سعودی اتحاد کا حصہ ہیں”؛ "اسرائیل سرطان ہے، امریکہ شیطان ہے”؛ "جو فلسطینی عوام کا قاتل ہے وہی یمنیوں کا بھی قاتل ہے”؛ "یمن میں ہمارے دشمن وہی قدس شریف اور غزہ کے دشمن ہیں”؛ "دوستانہ تعلقات قائم کرنے والوں سے کہہ دیں مسجد اقصی قابل فروخت نہیں ہے”۔ چند دن پہلے تل ابیب یونیورسٹی میں "نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز” نامی تحقیقاتی مرکز نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں یمن کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
 اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ انصاراللہ یمن کی جانب سے اسرائیل کے اندر یا بحیرہ احمر اور بحر ہند میں اسرائیلی کشتیوں پر میزائل حملوں کا شدید خطرہ پایا جاتا ہے۔ اس تحقیقاتی رپورٹ میں یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ انصاراللہ یمن کے پاس جدید ہتھیاروں کی موجودگی کا امکان پایا جاتا ہے۔ ممکن ہے یہ ہتھیار ایران نے انہیں فراہم کئے ہوں یا انہوں نے خود بنائے ہوں۔ ان ہتھیاروں کو صعدہ میں سربلندی اور عزت کی غاروں میں چھپایا گیا ہے۔ جنگ کے میدان میں یمنیوں کو مدمقابل پر برتری حاصل ہے۔ یمنی مجاہد جنگ لڑنے کی طاقت، شجاعت، سختیاں برداشت کرنے کی صلاحیت اور جوش و جذبے کے لحاظ سے بہت اعلی سطح پر فائز ہوتا ہے۔ گذشتہ چھ برس کی جنگ میں یمنیوں کی استقامت اس بات کا واضح ثبوت ہے۔
 اسرائیل کے اعلی سطحی فوجی سربراہان یمن کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت سے شدید ہراساں ہیں۔ اس کی چند وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ یمن کے سیاسی رہنما دیگر عرب رہنماوں کے برعکس مضبوط اسلامی عقیدے کے حامل ہیں۔ ان میں فیصلہ کرنے کی اعلی صلاحیت موجود ہے اور وہ جنگ کے بارے میں شجاعانہ فیصلے کرنے پر قادر ہیں۔ اسی طرح ان میں جنگ شروع کرنے اور اس کیلئے بڑی تعداد میں جنگجو اکٹھے کرنے کی بھی بھرپور صلاحیت پائی جاتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ سعودی اماراتی جنگی جہازوں کی جانب سے یمن بھر میں انفرااسٹرکچر مکمل طور پر تباہ کر دینے کے باوجود گذشتہ چھ برس میں یمنی عوام اور سربراہان بھرپور استقامت اور مزاحمت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ لہذا فضائی بمباری جو اسرائیل کا اصلی ہتھکنڈہ ہے یمنیوں کو خوفزدہ نہیں کر پایا۔
 یمن سے اسرائیلی حکمرانوں کے خوف کی تیسری وجہ یمن کے پاس بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں کا بڑا ذخیرہ ہے۔ ان میں ٹھیک نشانے پر مار کرنے والے گائیڈڈ میزائل بھی شامل ہیں۔ دنیا والے دیکھ چکے ہیں کہ یہ میزائل اور ڈرون طیارے کیسے ریاض، جدہ پہنچے اور کیسے انہوں نے بقیق، الظہران، ینبع، خمیس مشیط، جازان اور آرامکو میں سعودی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ عالمی یوم القدس کے موقع پر امت مسلمہ دنیا بھر میں فلسطینی عوام کی حمایت اور مقبوضہ فلسطین میں موجود مقدس مقامات کے دفاع کا اعلان کرتی ہے۔ اسرائیل آج پہلی بار خود کو ہر طرف سے میزائلوں کی زد میں محسوس کرتا ہے۔ دوسری طرف اربوں ڈالر کا میزائل ڈیفنس سسٹم "آئرن ڈوم” بھی فلسطینیوں کے میزائل اور راکٹ روکنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔

ReplyReply allForward

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular