
ریفرنڈم میں نقاب پر پابندی کے حق میں 51 فیصد اور مخالفت میں 49 فیصد ووٹ پڑے،عبادت گاہوں میں چہرہ ڈھانپنے پہننے کی ممانعت نہیں ہو گی
ریفرنڈم کے ذریعے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ، اقدار اور روایات کے منافی ہے،مسلم تنظی میں ، فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا،،سوئس اسلامک گروپ
برن (نیوز ڈیسک) سوئزرلینڈ کے عوام کی اکثریت نے نقاب اور برقع پر پابندی کی حمایت کردی ، حجاب پر پابندی سے متعلق ریفرنڈم میں کانٹے کی رائے شماری ہوئی اور معمولی اکثریت کے باعث عوامی مقامات پر حجاب پہننے پر پابندی عائد کردی گئی، ریفرنڈم میں حجاب کے حق میں 51 فیصد ووٹ پڑے جب کہ 49 فیصد سے کچھ زائد نے حجاب پر پابندی کی مخالفت کی ،سوئ ٹزرلینڈ میں 40 ہزار سے زائد مسلمان آباد ہیں جو کہ آبادی کا 5 فیصد ہیں ،فرانس کے بعد ڈنمارک، آسٹریا، ہالینڈ اور بلغاریہ بھی حجاب پر پابندی لگاچکے ہیں ، البتہ، عبادت گاہوں میں مکمل طور پر چہرہ ڈھانپنے یا برقعہ پہننے کی ممانعت نہیں ہو گی۔صحت یا دیگر احتیاطی تدابیر کے تحت بھی چہرہ ڈھانپنے پر پابندی نہیں ہو گی، یعنی کرونا وبا سے بچاوَ کے لیے عوامی مقامات پر شہری بدستور ماسک کا استعمال کر سکیں گے، مسلم تنظیموں نے اسے سوئ ٹزر لینڈ میں مسلمانوں پر کھلم کھلا حملہ قرار دیا ہے ، آن کا کہنا تھا کہ اس ریفرنڈم کے ذریعے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو پورے سوئ ٹزرلینڈ کے لیے نقصان دہ اور ملک کی اپنی اقدار اور روایات کے منافی ہے ، عرب ممالک سے آنے والوں سیاحوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی ہوسکتی ھے ،سوئس اسلامک گروپ نے فیصلے کے دن کو یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا


































