
محمد بن سلمان نے خاشقجی کو زندہ یا مردہ پکڑنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی، ایسا آپریشن ولی عہد کی منظوری کے بغیرنہیں ہوسکتا،امریکی رپورٹ
امریکی رپورٹ میں اس 15 رکنی قاتل اسکواڈ کا نام بھی ظاہر، 76 سعودی شخصیات کے خلاف پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیاں بن سلمان محفوظ
واشنگٹن:سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات پرمبنی انٹیلی جنس رپورٹ نے سعودی ایوانوں میں صف ماتم بچھادی، سعودی حکام نے رپورٹ کو جارحانہ قرار دیا ہے، جبکہ بن سلمان کے قاتل قرار پانے کے باجود امریکا نے دوغلے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے سعودی ولی عہدپر پابندیاں لگانے سے انکار کردیا، امریکی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کو زندہ یا مردہ پکڑنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی، 2017 کے بعد سے محمد بن سلمان نے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس آپریشنز پرمکمل طور پرکنٹرول حاصل کرلیا تھا جس کی وجہ سے یہ ممکن نہیں کہ سعودی حکام نے اس نوعیت کا آپریشن بن سلمان عہد کی منظوری کے بغیر کیا ہو، رپورٹ میں 3 وجوہات بیان کی گئی ہیں جن کی بنیاد پر یہ کہا گیا ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے آپریشن کی منظوری دی تھی اس میں محمد بن سلمان کاریاست میں فیصلہ سازی پر کنٹرول، ان کی حفاظت پر معمور ایک مشیر کا اس آپریشن میں براہ راست ملوث ہونا، ولی عہد کی بیرون ملک مقیم مخالف آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے پرتشدد اقدامات کی حمایت شامل ہیں ، سی آئی اے کی تحقیقات کی بنیاد وہ فون کالیں ہیں جو امریکا میں سعودی سفیر اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بھائی خالد بن سلمان نے قتل کے بعد کی تھیں ، شہزادہ خالد نےاپنے بھائی محمد بن سلمان کی ہدایت پر جمال خاشقجی کو فون کرکےیقین دہانی کرائی تھی کہ وہ استنبول کے سعودی سفارت خانے چلے جائیں اور انھیں کچھ نہیں کہا جائے گا، واقعہ کے بعد شہزادہ خالد کو واپس سعودیہ بلالیا گیا تھا اور وہ اس وقت نائب وزیردفاع ہیں، شہزادہ خالد نے جمال خاشقجی سے بات کرنے کی تردید کی تھی، رپورٹ میں اس 15 رکنی اسکواڈ کا نام بھی ظاہر کیا گیا ہے جو استنبول گیا تھا اوراس نے خاشقجی کی ہلاکت میں حصہ لیا تھا، سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے امریکی انٹیلیجنس رپورٹ کوواضح طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے سعودی قیادت کے خلاف جارحانہ اور غلط‘ قرار دیا اور یہ کہا کہ وہ اس رپورٹ کو تسلیم نہیں کرتے،امریکا نے اس رپورٹ کے منظرعام پر آنے کے بعد 76 سعودی شخصیات کے خلاف پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا تاہم سعودی ولیعہد بن سلمان کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا,،وہائ ٹ ہاوَس کی ترجمان جین ساکی نے دعوی کیا ہے کہ امریکا کے پاس سعودی ولی عہد کے خلاف پابندیوں سے کہیں بڑھ کے طریقے موجود ہیں


































