یک اور ضابطہ اخلاقملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں کمی کیلئے جہاں معتدل علمائے کرام اپنی کوششوں میں مصروف ہیں وہیں حکومتی اور ریاستی اداروں کی سطح پر بھی عملی اقدامات دکھائی دے رہے ہیں ، خاص طور وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری کی کاوشیں قابل قدر ہیں جو مختلف مکاتب کے علمائے کرام سے نہ صرف رابطے میں ہیں بلکہ ان کے ساتھ بیٹھ کر ماحول کی تلخیاں کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں ان کی کوششوں سے اسلامی نظریاتی کونسل نے پیغام پاکستان کانفرنس بلاکر تاریخی پیغام پاکستان کے بیانئے کی مختلف مکاتب فکر کے علما سے توثیق کرائی ، اس کانفرنس کے بعد ایک20 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا،اس ضابطہ اخلاق میں بیشتر وہی نکات شامل ہیں جن کی علمائے کرام پیغام پاکستان کے بیانیہ میں منظوری دے چکے ہیں، ضابطہ اخلاق میں جہاں توہین اہلبیت و صحابہ کی بات کی گئی ہے وہیں کسی پر اپنا عقیدہ مسلط نہ کرنے اور کسی کو کافر قرار نہ دینے کی بات دہرائی گئی ہے ،ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ انتہا پسندی، فرقہ واریت اور تشدد کو فروغ دینے والا کسی بھی تنظیم یا عقیدے سے ہو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، مخالف فرقہ کی تکفیر یا توہین کی کسی کو اجازت نہیں ہوگی ،کاغذ پر لکھے ہوئے یہ تمام نکات بہت اچھے اور خوبصورت دکھائی دیتے ہیں،بالکل نیشنل ایکشن پلان اور پیغام پاکستان کے بیانیہ کی طرح ،لیکن عملی طور پر دیکھیں تو ضابطہ اخلاق پر دستخط کرنیوالے ایک مفتی صاحب اپنے خطبہ میں ایک دن شیعہ کو اپنا بھائی کہتے ہیں اور دوسرے د ن ان کی تکفیر کرتے ہیں اور ان کے جلوسوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرڈالتے ہیں، ایک مفتی صاحب شیعوں کو ساتھ بٹھا کر انکے ساتھ چاند دیکھتے ہیں اور دوسری جانب ان کے خلاف ریلیوں کی قیادت کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ معاشرہ میں شدت پسندی کا زہر کس حد تک سراعیت کرچکا ہے ،تکفیریوں نے معتدل سوچ رکھنے والے علمائے کرام کو کس قدر اپنے دباو میں لے رکھا ہے،جو نہ صرف اپنا بیانیہ بدل لیتے ہیں بلکہ تحریری ضابطہ اخلاق کی بھی دھجیاں اڑادیتے ہیں ،شدت پسندوں کے دباو کا سامنا صرف اہلسنت کو ہی نہیں شیعہ علما کو بھی ہے ، جو نصیریوں اور غالیوں کا پہلا ہدف ہیں ،یہ طبقہ علمائے کرام پر لعن طعن ہی نہیں کرتا ہے بلکہ دھمکیوں اور تشدد کی راہ بھی اختیار کرنے سے نہیں چوکتا ہے اس کے باوجود شیعہ علما نے معاملہ کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے ،اس کا اعتراف وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے ایک پرہجوم تقریب میں خو د کیا اور شرکا کو بتایا کہ خلیفہ اول کیخلاف نازیبا گفتگو کے خلاف سب سے پہلا ردعمل انہیں علامہ ساجد نقوی اور علامہ واحدی نے دیا اور رابطہ کرکے کہا کہ ایسے لوگوں کو روکنا ہوگا ،یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اتحاد بین المسلمین کا کون حامی ہے اور کون ہے جو ملک میں آگ لگانے کی کوششوں میں مصروف ہے ، حکومت کے تمام تراقدامات کے باجود ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ حکومت اپنی صفوں میں موجود ان کالی بھیڑوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے جو کالعدم جماعتوں ،تکفیری عناصر کی سرپرستی کررہے ہیں ،شرپسند عناصر کھلے عام ریلیاں نکال رہے ہیں کافر کافر کے نعرے لگاتے پھر رہے ہیں لیکن انہیں کھلی چھٹی دیدی گئی ہے ،اس حوالے سے ریاستی ادارے کی کاوش کا ذکر بھی ضرور ی ہے کہ جس نے تمام مسالک کے نمائندوں کا اجلاس بلایا کر اپنے طریقے سے سمجھایا تو نہ صرف ریلیوں کا سلسلہ تھم گیا بلکہ مفتیوں کے تیور بھی کچھ بہتر ہوگئے،اسی اجلاس کے بعد مختلف مسالک کا اجلاس بلاکر ضابطہ اخلاق جاری کرایا گیا، لیکن یہ بات یاد رکھی جائے کہ اجلاس میں شریک ایک دو کو چھوڑ کر تمام ہی علمائے کرام اعتدال پسند ہیں اور تکفیرکے قائل نہیں ،ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تکفیریت کے نعرے لگانے والوں کو بھی اس اجلاس میں بلاکر ضابطہ اخلاق پر دستخط کرائے جاتے تاکہ ان سے تکفیریت کے نعرے لگانے کا اخلاقی جواز چھن جاتا ،اس طرح کے ضابطہ اخلاق اسی وقت کار آمد ہوسکتے ہیں جب تکفیریوں سے تحریر لی جائے کہ وہ کسی کو کافر قرار نہیں دیں گے بصورت دیگر تکفیر کا سلسلہ نہیں روکا جاسکتاہے،


































