
(حسن رضا نقوی
پی. ایچ. ڈی اسکالر تہران یونیورسٹی)
آیت اللہ سید ابراهیم رئیسی 1960 میں مشہد کے محلے نوغان میں پیدا ہوئے۔آپ 5 سال کے تھے جب آپ کے والد انتقال کا ہو گیا تھا. آپ 15 سال کے تھے جب دینی علوم کے لئے آپ نے حوزہ علمیہ قم میں داخلہ لیا اور اجتہاد تک اپنے دروس کو مکمل کیا. آیت اللہ مشکینی، آیت اللہ نوری ہمدانی، آیت اللہ فاضل لنکرانی، آیت اللہ مجتبی تھرانی، آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی اور آیت اللہ شہید مرتضی مطهری آپکے اساتید میں سے ہیں. آپ نے مدرسہ عالی شہید مطہری یونیورسٹی سے علومِ فقہ اور نجی قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
آپ ایران کے صوبے خراسان رضوی (جنوبی) سے دو بار مجلس خبرگان (ماہرین کونسل) کے ممبر بھی منتخب ہو چکے ہیں.
آپ نے مختلف مدارس میں فقہ، قانون اور اقتصاد کے مضامین پڑھائے۔آپ نے متعدد یونیورسٹیوں جیسے امام الصادق یونیورسٹی (پی بی یو ایچ) اور شہید بہشتی یونیورسٹی میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی سطح پر فقہ اور معاشیات کے خصوصی کورسز بھی پڑھائے.
آیت اللہ سید ابراهیم رئیسی کرج (1980 میں) میں جج کے عہدے پر فائز تھے ، پھر تہران میں ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر (1985 )جس کے بعد آپ تہران میں سرکاری وکیل کے عہدے پر فائز رہے۔ (1989 ) ، اس وقت کے جنرل انسپیکشن اتھارٹی کے سربراہ (1994 ) اور جوڈیشری کے ڈپٹی چیف (2004 ) ، ایران میں سرکاری وکیل کے عہدے تک پہنچنے سے پہلے خصوصی عدالت (2014 ) اور آخر کار بطور سربراہ ایرانی عدلیہ (2019 میں) مقرر ہوئے.
آیت اللہ رئیسی نے رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے حکم سے متعدد ایگزیکٹو فرائض بھی سنبھالے.
آپ ایران کی ماہرین کونسل کے پہلے نائب چیئرمین اور ایرانی عدلیہ کے سربراہ ہیں جنہیں رہبر معظم انقلاب اسلامی امام سید علی خامنہ ای نے 7 مارچ ، 2019 کو مقرر کیا تھا۔
آپ انقلاب اسلامی کی مرکزی کلچرل کونسل کے بھی ممبر رہ چکے ہیں.
آپ مشہد المقدس میں حرم امام رضا علیہ السلام کے متولی اور اس سے پہلے آپ امامزادہ صالح کے حرم کے متولی تھے.
آپ مشہد مقدس میں موجودہ امام جمعہ اور خراسان رضوی میں نمائندہ ولی فقیہ آیت اللہ علم الہدی کے داماد ہیں.آپکی زوجہ ڈاکٹر جمیلہ علم الھدی نے بھی فلسفہ تعلیم و تربیت میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور ایران کی معروف خواتین اسکالر میں شمار کی جاتی ہیں. آپکی دو بیٹیاں ہیں ایک بیٹی تہران یونیورسٹی میں معاشرہ شناسی کے شعبے میں پی. ایچ. ڈی کی طالبہ ہے اور دوسری بیٹی نے صنعتی شریف یونیورسٹی سے ماسٹر مکمل کرنے کے بعد نہج البلاغہ کے سبجیکٹ میں ایم. فل کر رہی ہیں.
آیت اللہ سید ابراهیم رئیسی کا نام یورپی یونین اور امریکہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے اور آپ نے اپنے خارجی سفر میں لبنان اور عراق کے دو اہم دورے کئے جس کے دوران آپ نے حزب اللہ کے مرکزی سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ سمیت متعدد مقاومتی راہنمائوں سے ملاقاتیں کیں ۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اُس وقت کے عدلیہ کے سربراہ شہید آیت اللہ سید محمد بہشتی نے مختلف سرکاری انتظامی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے قم مدرسے کے 70 طلباء کے لئے تربیتی کورس کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ ان میں سے ایک آیت اللہ سید ابراهیم رئیسی تھے جنہوں نے انہیں بہت ساری ذمہ داریاں سنبھالنے کے اہل کیا۔
عدلیہ کے سربراہ کی حیثیت سے آپ کی تقرری کے بعد آپ اِس اختیار میں خاص طور پر ہر طرح کی بدعنوانی کے خلاف جنگ میں ایک بڑی اصلاح انجام دینے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ فقط 2020 کے دوران عدلیہ نے آپ کی سربراہی میں معاشی خرابیوں کے خلاف ایک ہزار سے زیادہ فیصلے جاری کیے۔ آپ نے عدالتی الیکٹرانک سمت کو ترقی دینے میں بھی کامیابی حاصل کی۔الیکٹرانک آزمائشوں کا دائرہ وسیع کرکے اور ایسے مختلف سسٹم تشکیل دئے جو لوگوں کو انصاف تک رسائی میں آسانی سے مدد فراہم کرتے ہیں۔ آپ کی مدت ملازمت کے دوران عدلیہ نے بنیادی معاملات مثلا. 1200 پیداواری اداروں کی بندش کو روکنا ، نگرانی اور معائنہ کرنے والے اداروں کو مستحکم کرنے کے علاوہ اتھارٹی کے ساتھ مقبول مواصلات کو مستحکم کرنے اور جرائم کا پتہ لگانے اور ان کی پیروی میں اس کے کردار کو بڑھانے کے علاوہ بھی مؤثر طریقے سے نمٹا.
آیت اللہ سید ابراهیم رئیسی یونیورسٹیوں کو اسلامی بنانے، انٹرنیٹ کا اقتصادی میدان میں مثبت استعمال، نیٹ کے معاشرے پر برے استعمال پر کارروائی اور لامحدود انٹرنیٹ کی فراہمی پر پابندی ، مغربی کلچر سے سختی سے نمٹنے، اسلامی قدروں کو پائمال کرنے والے کنسرٹ کے سخت مخالف، خواتین و مردوں کے تمام اداروں میں جدا جدا ماحول میں کام کرنے کے قائل اور مخلوط اداری نظام کے مخالف، عورتوں کے حقوق کے مدافع، حکومتی عہدے داروں اور ذمہ داران کی پروفیشنل زندگی کے علاوہ انکی ثقافتی و سماجی زندگی پر بھی گہری نظر رکھنے اور انکے سخت احتساب کے قائل، آپ نے ایران کے کئی ایک بڑی شخصیات کے خلاف کرپشن کیسسز کو نمٹا کر سزا دی ہے. خارجہ پالیسی میں اسرائیل کے علاوہ تمام ممالک کے ساتھ مذاکرات کرنے کے حامی ہیں لیکن تین شرائط کے ساتھ 1 : اقتدار و طاقت کے ساتھ گفتگو کرنا ، 2: ملکی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو ، 3 : ملکی عزت و منفعت کا دفاع کرنا.
آپ نے دسیوں بقول فارسی ( گردن کُلفت یعنی جن کی گردن میں سریا ہو) لوگوں کے خلاف انکی شہرت و حیثیت کو ایک طرف رکھتے ہوئے عدالت کی بنیاد پر جرات مندانہ فیصلے کر کے انکو سزائیں دیں مثلاً سابق چیف جسٹس لاریجانی کے نائب محمد طبری کے خلاف کرپشن کیس کا فیصلہ اور اسکی گرفتاری، موجودہ ایرانی صدر حسن روحانی کے بھائی حسین فریدون کے کرپشن کیس کا فیصلہ اور اسکی گرفتاری، موجودہ ایرانی صدر کے نائب اسحاق جہانگیری کے بھائی مہدی جہانگیری کے کرپشن کیس کا فیصلہ اور گرفتاری، ایران کے مرکزی قومی بینک کے سربراہ ولی ا… سیف کے کرپشن کیس کا فیصلہ اور گرفتاری، موجودہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے نائب کے بھائی احمد عراقچی کے خلاف فیصلہ اور گرفتاری، ایک وفاقی وزیر کی بیٹی شبنم نعمت زادہ کے کیس کا فیصلہ اور گرفتاری، موجودہ ایرانی صدر کے وزیر شریعتمداری کے داماد ہادی رضوی کے کرپشن کیس کا فیصلہ اور اسکی گرفتاری سمیت کئی اہم عدالتی فیصلے کئے، آپ نے اپنے فیصلوں سے کئی بلین ڈالر بیت المال واپس لوٹائے، آپ نے سینکڑوں ہیکٹر زمینوں پر ناجائز قبضے کو واگزار کروا کے اصلی مالکان کو واپس لوٹایا.
ایران میں صدارتی امیدواروں کے سات امیدواروں میں آپ بھی شامل تھے اور اس وقت عدلیہ کے سربراہ بھی ہیں۔ آپ انقلابی گروہوں کے اتحاد کے سب سے اہم متفقہ امیدوار اور اسلامی جمہوریہ ایران کے آٹھویں صدر کے عہدے کے امیدوار تھے.
سید ابراہیم رئیسی کو ایران کی اہم ترین سیاسی اور مذہبی شخصیات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ملک کے مستقبل میں کلیدی کردار ادا کریں گے ۔آپ نے 2017 میں صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تھا اور موجودہ صدرحسن روحانی سے مقابلہ کیا تھا .
ایرانی موجودہ پارلیمنٹ کے 210 نمائندوں نے آیت اللہ سید ابراهیم رئیسی کو خط لکھ کر صدارتی الیکشن میں شرکت کی دعوت دی تھی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ سب نمائندے کبھی بھی اقتدار میں کوئی پوزیشن حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے کیونکہ عوام انتخابات سے ایسی سیاسی تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں جو عوام کی مشکلات کو حل کرے.
آیت اللہ سید ابراهیم رئیسی نے الیکشن کمپین کے دوران اپنے ایک خطاب میں کہا تھا ” مضبوط ایران ” کے حصول کے لئے ایک جامع اور منظم تبدیلی کی ضرورت ہے۔
اپنے بیان میں آیت اللہ سید ابراهیم رئیسی نے اشارہ کیا کہ ملک کے چیلینجز سے نمٹنے کے لئے انہیں "ایک مضبوط ایران کے لئے عوامی حکومت” تشکیل دینے کے لئے نامزد کیا گیا ہے جس میں سات بنیادی خصوصیات ہوں گی: جوان قیادت ، وقار ، آزادی ، شفافیت ، اخلاق، کام اور فخر.
اب جب کہ آیت اللہ سید ابراهیم رئیسی بھاری اکثریت کے ساتھ صدر منتخب ہو گئے ہیں یہ ایران میں موجود تمام انقلابی گروہوں کی کامیابی بھی ہے اور امتحان بھی. قوی امکان ہے کہ آیت اللہ سید ابراهیم رئیسی اپنے حق میں بیٹھنے والے دو انقلابی صدارتی امیدواروں سعید جلیلی اور رضا زاکانی کو بھی اپنی حکومت میں اہم ذمہ داریاں دیں گے جو کہ گذشتہ ادوار میں بھی مختلف وزارتوں اور اہم عہدوں پہ رہ چکے ہیں.


































