
غزہ : صیہونی فوجی اپنے جنگی جرائم کی سوشل میڈیا پر تشہیر کرکے پھنس گئے۔ عرب نیوز گروپ نے صیہونی فوجیوں کی نسل کشی ۔ نسلی منافرت۔ شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی، لوٹ مار اور شہریوں کو نشانہ بنانے کے جرائم کے سینکڑوں ثبوت جمع کرلئے۔ غزہ جدید تاریخ میں نسل کشی ۔ انسانیت کی پامالی اور جنگی جرائم کا ایسا استعارہ جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
صیہونی فوجیوں نے غزہ میں صرف انسانی خون ہی نہیں بہایا انسانیت کو بھی اپنے پاؤں تلے روند دیا۔ صیہونی فوجی ملیا میٹ کرنے کے بعد غزہ میں گھسے تو انسانیت کی پامالی اور اخلاق باختگی کے ایسے ایسے مظاہر پیش کئے جسے دیکھ کر انسانیت شرما جائے لیکن انسانی حقوق کی علمبردار مغربی دنیا ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔ صیہونی حکومت چاہے جھوٹ بول کر اپنے جرائم کتنے ہی کیوں نہ چھپائے لیکن فوجیوں نے غزہ میں جو کچھ کیا اسے تصاویر اور ویڈیوز کی شکل میں انسٹاگرام۔ ایکس، فیس بک، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر ڈال دیا۔ ماضی میں جنگی جرائم کی تحقیقات ہوتی تھی لیکن اب مجرموں نے اپنے اعمال کے عصری ثبوت خود ہی فراہم کردئے ہیں۔
فوجیوں کا گھروں۔ اسکولوں اور اسپتالوں کی تباہی کے بعد رقص۔ گھروں کو عارضی تفریحی گاہ میں بدلنا۔ زیر حراست افراد کے ساتھ بدسلوکی۔ انسانی ڈھال بنانا۔ خواتین کے زیر جامے پہن کر بیہودہ لطیفے اور طنز کرنے کی ویڈیوز کو ماہرین نے جنگی جرائم کے ثبوتوں کا بیش بہا خزانہ قرار دیا ہے.


































