
تل ابیب : صیہونی آبادکاروں نے آنے والے ہفتوں میں مسجدِ الاقصیٰ پر بڑے پیمانے پر دھاوا بولنے کا منصوبہ بنالیا۔اسرائیل کے پبلک براڈکاسٹر، کے اے این الیون نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت مسجد الاقصیٰ پر آبادکاروں کے غیر قانونی دھاوے کو مالی معاونت دے گی۔ رپورٹ کے مطابق فلسطین مخالف موقف کیلئے بدنام اسرائیلی وزیر وراثت امیچائی الیاہو کا دفتر مسجد الاقصیٰ پر دھاوے کیلئے بیس لاکھ شیکل تقریباً پانچ لاکھ پینتالیس ہزار ڈالر مختص کرے گا۔رپورٹ کے مطابق وراثت کی وزارت انتہائی دائیں بازو کے وزیر ایتمار بن گویر کی زیر قیادت پولیس کی وزارت سے رابطہ کر رہی ہے تاکہ الاقصیٰ میں آباد کاروں کی مدد کے لیے اسرائیلی پولیس سے ضروری اجازت حاصل کی جا سکے۔ یہ اعلان بین گویر کے بیان کے بعد کیا گیا ہے۔ جس میں اس نے آباد کاروں کو مسجد اقصیٰ کے اندر عبادت کی اجازت دینے کی پالیسی کا اعادہ کیا تھا۔ حماس نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے خطرناک جارحیت سے تعبیر کیا اور آگ سے کھیلنے کے مترداف قرار دیا جو خطے کو مذہبی جنگ کی طرف لے جائے گا۔ اس منصوبے کی اشتعال انگیز نوعیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ نیتن یاہو کے مسجد اقصیٰ میں جمود کو برقرار رکھنے کے بار بار کیے جانے والے دعووں کی نفی کرتا ہے۔


































