
غزہ : درندگی اور فسطائیت کے ایک اور مظاہرے میں اسرائیلی فوج نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کم از کم چالیس معصوم اور نہتے فلسطینیوں کو شہید اور ایک سو ستر کو زخمی کردیا۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق شہید ہونے والوں میں ستر فیصد بچے اور خواتین ہیں۔ اسرائیلی فضایہ نے خان یونس اور جنوبی غزہ پٹی پر شدید بمباری کی ہے۔ زخمیوں اور مریضوں کے علاج کے لئے ادویات کی کمی اور بنیادی سہولیات کے نہ ہونے کے باعث علاقے میں حالات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ سر میں جوئیں ہوجانے کی وجہ سے فلسطینی خواتین مجبورہو کر اپنے بال کاٹ رہی ہیں۔ فلسطینی مہاجرین کے لئے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے اداراے انروا کے کمشنر جنرل فلپ لا زرینی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر لکھا ہے کہ اس وقت فلسطین میں عورت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں اور لڑکیوں کو مہینوں مہینوں نہانا نصیبب نہیں ہوتا اور ماہواری کے دوران سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہیں پانی کی قلت اور شیمپو دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اپنے بال کاٹنے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ انسانیت کی تذلیل کی انتہا یہ ہے کہ اب خواتین یہ کہہ رہی ہیں کہ اب ہم میں عورت ہونے کا احساس تک ختم ہوچکا ہے۔


































