
لاہور: شیعہ علماء کونسل کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور مرکزی محرم الحرام کمیٹی کے سربرا علامہ شبیر حسن میثمی نے واضح کیا ہے کہ عزاداری سید الشہداء عشق رسول ص کا عملی اظہار ہے۔ پنجاب پولیس عزاداری میں رکاوٹیں پیدا کرنے سے باز رہے۔ مجالس عزا منعقد کروانے سے منع کرنے کے لیے ریاسی مشینری کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ فورتھ شیڈول اور گرفتاریوں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ نواسہ رسول(ص) کے غم میں جلوس اور مجالس کے لیے جان کی قربانی بھی دینی پڑی تو دریغ نہیں کریں گے۔ مجالس اور جلوسوں پر کریک ڈاون بند نہ ہوا تو حکومت پنجاب کو متنبہ کر رہے ہیں کہ احتجاج کے ذریعے وزیراعلیٰ ہاؤس اور مال روڈ کو امام بارگاہ بنا دیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر قاسم علی قاسمی، مولانا حافظ کاظم رضا نقوی ،مولانا مختار ثقفعی، مولانا محمد ارشد علوی، مولانا صفدر جعفری ، مولانا اظہر عباس، چوہدری صغیر عباس ورک، جعفر علی شاہ، زاہد حسین بخاری اور دیگر بھی موجود تھے۔ علامہ شبیر میثمی نے کہا کہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی پرامن پالیسیوں کے باعث ملک میں شیعہ سنی اتحاد کی بہترین فضا موجود ہے، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ۔ عزاداری میں اہل سنت برادران اہل تشیع کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔ رکاوٹیں مبینہ طور پر صرف پولیس کی طرف سے باقاعدہ منصوبہ بندی سے پیدا کی جارہی ہیں۔ لیکن ہماری تاریخ واضح ہے کہ ہم نے کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ 5 محرم تک مختلف 40 ایف آئی آرز عزاداروں کے خلاف درج ہو چکی ہیں، جنہیں ہم مسترد کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک مضحکہ خیز قسم کی ایف آئی آر یہ بھی ہے کہ ایک مخبر نے اطلاع دی ہے کہ فلاں شخص نے اپنے گھر میں خفیہ طور پر آدھا گھنٹہ مجلس عزا منعقد کی۔


































