Sun Oct 18, 2026

بی بی زینبؑ کا کردار، صبر، بہادری اور ثابت قدمی خواتین کیلئے مشعلِ راہ ہے، ولی امر مسلمین اسرائیل مغربی کنارے میں صیہونی بستیوں کا جبری قیام روکے، چینی وزیرخارجہ امریکا کو ایران کے خلاف کیے گئے مظالم پر سزا ملنی چاہیے، قالیباف یمنی فوج نے سعودی عرب کا جاسوسی اور جنگی ڈرون مار گرایا احمد الشرع کو دھمکی دیکر شام میں دروز برادری کا قتل رکوایا، نیتن یاہو یمن سے مکہ یا مدینہ پر حملے کا دعویٰ جھوٹ ہے، انصار اللہ ایران کی سخت دھمکی، دشمن کے مفادات اور اثاثے بھی نشانے پر ہوں گے امریکی فوج کے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے نئے منصوبے تیار صدارتی محل پر یمنی فوج کا میزائل حملہ، 2 سکیورٹی اہلکار ہلاک، متعدد زخمی ایران کیخلاف جنگ یورپ کو 100 ارب یورو سے زائد میں پڑ گئی، اسپین کے وزیرِاعظم کا بڑا انکشاف اختلاف رائے کا حق ختم کرنا معاشرے کے لیے خطرناک ہے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نیتن یاہو کیخلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، ناوے پلے سعودی ایئرپورٹس پر یمنی حملوں میں 19 افراد ہلاک، 364 زخمی آذربائیجان میں اجلاس، اسرائیلی صدر کی تقریر کے دوران 12 ممالک کا واک آؤٹ پشاور میں المناک سانحہ، اسکول کی چھت گرنے سے 34 بچے اور خاتون ٹیچر جاں بحق

روزانہ کی خبریں

قومی ادارے کیوں عمران خان کے نشانے پر ہیں؟؟

تحریر: تصور حسین شہزاد

عمران خان اور آرمی چیف کے درمیان کشیدگی جو ڈھکی چھپی تھی، اب پشاور جلسے کے بعد کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اب ہر بندہ اس بات کو جان چکا ہے کہ عمران خان کو نکالنے میں فوج کا کردار بھی تھا۔ عمران خان نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ اگر مجھے نکالا تو میں اس سے بھی زیادہ خطرناک ہو جاوں گا۔ یہی وجہ ہے کہ اب معاملات کافی بڑی خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔ شائد عمران خان کو نکالنے والوں کے اندازے اور خدشے غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ سکیورٹی اداروں کو پی ٹی آئی کے کارکنوں کیخلاف کریک ڈاون کرنا پڑ گیا، جو سوشل میڈیا پر آرمی چیف کے حوالے سے ٹرولنگ کر رہے تھے۔ اب تک درجنوں لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے گرفتار کارکنوں کی رہائی کیلئے قانونی جنگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

پشاور جلسہ اپنی مثال آپ تھا۔ بلا مبالغہ اس جلسے میں ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ تھے۔ اپوزیشن اور اس کے حامی صحافی اس تعداد کو پندرہ سے بیس ہزار بتا رہے ہیں۔ اگر یہ تعداد بھی تھی تو یہ بھی ایک بڑی تعداد ہے۔ اس سے پہلے اتوار کو بھی پورا ملک عمران خان کی کال پر سڑکوں پر نکلا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ معاملہ براہ راست امریکہ کیساتھ ہے۔ پرویز خٹک کے بقول امریکہ نے اس دن سے عمران خان کیخلاف سازش شروع کر دی تھی، جس دن انہوں نے ایبسلوٹلی ناٹ کہا تھا۔ امریکہ کا ظاہر ہے کہ پاکستانی حلقوں میں اچھا خاصا اثر و رسوخ ہے۔ سیاستدان اور فوجی دونوں سمجھتے ہیں کہ امریکہ بہادر کی مںظوری کے بغیر کوئی بڑا عہدہ نہیں مل سکتا، یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان جیسے بندے کو بھی امریکیوں کو یہ یقین دہانی کروانا پڑی کہ ’’آپ ہم پر بھی مہربانی کرکے دیکھیں، ہم دوسروں کی نسبت بہتر آپ کے اعتماد پر پورا اُتریں گے۔‘‘ جب نوبت بہ این جا رسید، تو کیوں کسی سے گلہ کرے کوئی۔؟

اب صورتحال یہ ہے کہ عمران خان نے اپنے خطاب میں پہلی بار براہ راست فوج کو مخاطب کیا ہے۔ پشاور جلسے میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک سازش کے تحت (شہباز شریف کو) حکومت دلوائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ’’اداروں سے پوچھتا ہوں کہ تمہارا نیوکلیئر پروگرام ان (لوگوں) کے ہاتھ میں محفوظ ہے؟ تم ان چوروں کے ہاتھوں میں ہماری سالمیت دے رہے ہو، کیا تمہیں خوف خدا نہیں ہے۔‘‘ دوسرے لفظوں میں عمران خان نے کہا کہ موجودہ حکومت میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام خطرے کا شکار ہے، تحریک انصاف والوں کے بقول ظاہر ہے کہ یہ حکومت امپورٹڈ حکومت ہے اور امریکی ایماء پر اقتدار میں آئی ہے تو اس سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے کہ یہ ملکی مفاد کو مدنظر رکھے گی، اس حکومت کو تو امریکی مفاد عزیز ہوگا، جس کی وجہ سے انہیں اقتدار ملا ہے۔ عمران خان اکثر کہتے ہیں کہ یہ لوگ امریکہ کے غلام ہیں، ان کے مفادات امریکہ سے وابستہ ہیں۔ ان کی لوٹ مار کا پیسہ وہاں پڑا ہوا ہے، اپنے پیسے کو تحفظ دینے کیلئے یہ امریکہ کی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں اور پوری قوم کو امریکی غلام بنا دیا ہے۔

عمران خان نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ جب تک الیکشن نہیں ہوتے، ہم سڑکوں پر رہیں گے۔ ہم نے کیس عوام کی عدالت میں دائر کر دیا ہے اور عوام امریکی غلامی نہیں چاہتے، عوام نے فیصلہ سنا دیا ہے۔ مبصرین کے بقول عمران خان کی حالیہ پوزیشن سے جہاں سیاسی رہنماء بے نقاب ہوئے ہیں، وہیں عدلیہ اور فوج بھی بے نقاب ہوئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی فوج محب وطن فوج ہے، فوج نے وطن کے دفاع میں لازوال قربانیاں دی ہیں، لیکن عمران خان کا بیانیہ فوج کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ عدلیہ اور فوج کی ساکھ سیاست کی اس کھینچا تانی میں بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس معاملے میں ’’عزت‘‘ اِسی میں ہے کہ عدلیہ اور فوج غیر جانبدار رہیں۔ ورنہ جس طرز سے عمران خان کی آواز پر قوم لبیک کہہ رہی ہے اور عوام نکل رہے ہیں، عوام میں عدلیہ اور فوج کی احترام ختم ہو جائے گا۔ اس وقت اداروں کی حرمت کا سوال ہے، ادارے اپنی غیر جانبداری ثابت کریں اور معاملات سے الگ تھلگ رہیں۔

عمران خان کے حالیہ خطابات سے لگتا ہے کہ اس نے جو کہا تھا کہ اگر مجھے نکالا تو میں اور زیادہ خطرناک ہو جاوں گا، تو واقعی عمران خان بہت زیادہ خطرناک ہوتے جا رہے ہیں۔ بیرونی دشمن تو فوج کی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچا سکا، مگر ملک میں پہلی بار عمران خان نے فوج کی ساکھ کو داو پر لگا دیا ہے اور واقعی یہ خطرناک صورتحال ہے کہ عوامی سطح پر فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اداروں کی جانب سے سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کی گرفتاریاں بھی اس لہر کو نہیں روک پائیں گی۔ اگر فوج سے قوم کا اعتماد ختم ہوگیا تو پھر یہ مضبوط ترین ادارہ بھی اپنی افادیت کھو دے گا۔ اس سے نقصان پاکستان کا ہی ہوگا۔ عمران خان جس ڈگر پر جا رہا ہے، یہ بہت ہی خطرناک معاملہ ہے۔ اس کی حساسیت کا شائد فوجی قیادت کو بھی احساس نہیں۔ فوج کے اندر معاملات خراب ہونے کا اندیشہ ہے، کیونکہ فوج افسران کی اکثریت عمران خان کو پسند کرتی ہے، جبکہ ایک مخصوص گروہ ہے، جو عمران کا مخالف ہے، اس چھوٹے سے گروہ کی وجہ سے پورے ادارے کی ساکھ کو داو پر لگانا دانشمندی نہیں۔

فوج کو غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، فوج کا پارٹی بننا خود فوج کیلئے خطرناک ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ کسی بے غیرت حکومت کو نہیں مانتے، وہ اپنے غیرت مند عوام کو بے غیرتوں کیخلاف کھڑا کریں گے، ہم ان سے زبردستی الیکشن کرائیں گے، نواز شریف کسی غلط فہمی میں نہ رہے کہ این آر او ٹو لیکر پاکستان آجائے گا، پاکستان میں عمران خان اس کا انتظار کر رہا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ جب بھی کسی وزیراعظم کو ہٹایا جاتا تھا تو پاکستان میں مٹھائیاں بانٹی جاتی تھیں، مجھے ہٹایا گیا تو لوگوں نے اتنی عزت دی، جس پر وہ اللہ کے شکر گزار ہیں، اتوار کے روز پوری قوم باہر نکلی، جس پر وہ پاکستانیوں کے شکر گزار ہیں۔ پاکستان ایک قوم بن چکا ہے، جو بھی یہ سوچتا تھا کہ باہر سے امریکہ کی امپورٹڈ حکومت یہ قوم تسلیم کرلے گی، تو اتوار کو ساری قوم نے سڑکوں پر نکل کر بتا دیا ہے کہ انہیں امپورٹڈ حکومت منظور نہیں۔ قوم کیلئے فیصلے کی گھڑی آگئی ہے، پاکستانیوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم غلامی چاہتے ہیں یا آزادی چاہتے ہیں۔؟

عمران خان نے کہا "عدلیہ سے پوچھنا چاہتا ہوں، میرے پیارے ججز، میری عدلیہ، میں نے آزاد عدلیہ کیلئے جیل میں وقت گزارا، کیونکہ ہم ایک خواب دیکھتے ہیں کہ ایک دن عدلیہ اس ملک میں کمزور لوگوں کیساتھ کھڑی ہوگی، میں پوچھتا ہوں کہ رات کے اندھیرے میں آپ نے عدالتیں کیوں لگائیں، مجھے یہ قوم 45 سال سے جانتی ہے، میں نے کبھی قانون نہیں توڑا، جب سے سیاست میں ہوں کبھی ملک کے اداروں اور عدلیہ کیخلاف لوگوں کو نہیں بھڑکایا، کیونکہ میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے، میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ میں نے کیا جرم کیا تھا کہ آپ نے رات کے 12 بجے عدالتیں لگائیں، جبکہ فوج بھی ہدفِ تنقید رہی۔ اس صورتحال میں دونوں اداروں کو اپنی ساکھ کے حوالے سے واضح کرنا ہوگا اور عمران خان کے مطالبے پر الیکشن نہ کروائے گئے تو لوگ یہی سمجھیں گے کہ امریکی سازش میں ہمارے اپنے بھی شریک ہیں۔ اب یہ ’’اپنوں‘‘ کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملات کو کس طرح ہینڈل کرتے ہیں، یہ نہ ہو کہ امریکہ کی چھوٹی سازش سے ہم خود اپنا بڑا نقصان کر لیں، ہمیں اداروں کی حرمت بچانا ہوگی۔

مزید پڑھیے

Most Popular