
تحریر: علی احمدی
برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل نئی ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقتوں کی تنظیم "برکس” کا سربراہی اجلاس منگل 22 اگست 2023ء کے دن جنوبی افریقہ کے دارالحکومت جوہانسبرگ میں شروع ہوا۔ برکس تنظیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے رکن ممالک عالمی جی ڈی پی کا 30 فیصد حصہ جبکہ دنیا کی آبادی کا 40 فیصد حصہ تشکیل دیتے ہیں۔ یہ برکس تنظیم کا پندرہواں اجلاس ہے۔ اس تنظیم میں رکنیت حاصل کرنے کیلئے دنیا کے 40 مختلف ممالک نے درخواستیں دے رکھی ہیں۔ جوہانسبرگ میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں انڈیا کے وزیراعظم نریندرا مودی، برازیل، چین اور جنوبی افریقہ کے صدور مملکت لولا ڈا سیلوا، شی جن پنگ اور سیریل رامافوسا شریک ہیں جبکہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اس اجلاس میں شرکت کی ہے۔
سرمایہ کاری کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا بینک، گولڈمین ساکس کے اعلی سطحی ماہر اقتصاد جم اونل نے 2001ء میں اس وقت کے رکن ممالک یعنی برازیل، روس، چین اور انڈیا کے ناموں کے پیش نظر اس تنظیم کیلئے “BRIC” کا نام پیش کیا۔ جب 2010ء میں جنوبی افریقہ بھی اس تنظیم کا حصہ بنا تو اس کا نام تبدیل کر کے “BRICS” رکھ دیا گیا۔ برکس کی سرگرمیوں کا آغاز 2009ء میں ہوا اور اس کا مقصد ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا جس کے ذریعے عالمی سطح پر امریکہ اور مغربی طاقتوں کے اقتصادی تسلط اور آمریت کا مقابلہ کیا جا سکے۔ برکس تنظیم کا سربراہی اجلاس ہر سال منعقد ہوتا ہے جبکہ ایک سال کیلئے رکن ممالک میں سے تنظیم کا سربراہ بھی چنا جاتا ہے۔ برکس کے فیصلے سو فیصد اتفاق رائے سے انجام پاتے ہیں۔
ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ارجنٹائن، الجزائر، بولیویا، انڈونیشیا، مصر، اتھوپیا سمیت دنیا کے 40 ممالک اس تنظیم میں رکنیت کی درخواست دے چکے ہیں۔ آج جمعرات 24 اگست کے دن سربراہی اجلاس کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، ارجنٹائن اور اتھوپیا کو برکس کی رکنیت دے دی گئی ہے۔ درخواست گذار ممالک برکس کو عالمی سطح پر مغربی طاقتوں کے زیر اثر مالی اداروں کا بہترین نعم البدل سمجھتے ہیں۔ وہ امیدوار ہیں کہ برکس میں رکنیت حاصل کر کے اقتصادی ترقی، تجارت میں پھیلاو اور بیرونی سرمایہ کاری جیسے فائدوں سے بہرہ مند ہو سکیں گے۔ جنوبی افریقہ کے وزیر فلاح و بہبود نے کہا کہ رکنیت کے خواہش مند ممالک دوطرفہ معاہدہ انجام پانے کے خواہاں ہیں تاکہ وہ عالمی طاقتوں کے زیر تسلط اور پیروکار نہ بنیں۔
سل زیکالالا نے کہا: "دنیا کے اکثر ممالک ایسے پلیٹ فارم میں شامل ہونے کے خواہاں ہیں جس کے ذریعے وہ سپر پاورز کے تسلط کے بغیر اقتصادی سرگرمیوں میں شریک ہو سکیں۔ یہ برکس میں شامل ہونے کے اشتیاق کی وجہ ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کو اس تنظیم میں شامل کرنے کیلئے برکس پلس کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جو یونی پولر دنیا کا نعم البدل ہے اور اس کے ذریعے عالمی سطح پر طاقت اور تجارت کا توازن ایجاد کرنے میں مدد ملے گی۔” اس سال برکس کا سربراہی اجلاس خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی وجہ وہ ایشوز ہیں جو اس اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔ ان ایشوز میں ایران، مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور الجزائر جیسے نئے ممالک کو رکنیت عطا کئے جانے سے لے کر برکس تنظیم کی مخصوص کرنسی جاری کرنے کا جائزہ لینا شامل ہیں۔
دنیا کے بہت سے ممالک کی جانب سے برکس تنظیم میں شامل ہونے کی شدید خواہش نے امریکہ اور مغربی ممالک کو پریشان کر ڈالا ہے۔ نیوزویک کے مطابق برکس امریکہ اور مغربی ممالک کیلئے ایک ڈراونا خواب بنتا جا رہا ہے کیونکہ عالمی سطح پر اس تنظیم میں شامل ہونے کے رجحانات بڑھ گئے ہیں۔ فائننشیل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں برکس کے حالیہ سربراہی اجلاس کے بارے میں لکھا: "22 ممالک کو رکنیت عطا کرنے کا جائزہ لینا اس اجلاس کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے۔ اگر ان تمام ممالک کو رکنیت عطا کر دی جاتی ہے تو عالمی معیشت کا 45 فیصد حصہ برکس کے اختیار میں چلا جائے گا۔ حتی اگر کم تعداد میں بھی ممالک کو رکنیت مل جائے تو دنیا کی تقریباً نصف آبادی اور دنیا کی معیشت کا 35 فیصد حصہ برکس کے زیر اثر چلا جائے گا۔” برکس میں جنوبی افریقہ کے سفیر اینیئل سوکلال کے بقول برکس دنیا کے سیاسی، اقتصادی اور مالی سیٹ اپ کو تبدیل کرنے کے درپے ہے۔
عالمی لین دین اور تجارت میں ڈالر سے ہٹ کر دیگر کرنسیوں کا استعمال اس سال برکس سربراہی اجلاس کی اہم ترین ترجیحات میں شامل تھا۔ عرب دنیا کے ماہر اقتصاد حسن النعیمی اس بارے میں کہتے ہیں کہ برکس کے سربراہی اجلاس کا انعقاد دور حاضر کی اہم ترین تبدیلیوں میں سے ایک ہے کیونکہ وہ عالمی سطح پر رونما ہونے والے حالات میں اہم موڑ کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ تنظیم نئے عالمی نظام کا روڈمیپ تشکیل پانے میں انتہائی موثر واقع ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں دنیا کے ممالک مغربی تسلط سے آزادی حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر برکس تنظیم ایک واحد کرنسی تشکیل دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو نئے عالمی نظام کے مقدمات تیزی سے فراہم ہو جائیں گے کیونکہ دنیا کی بہت زیادہ قوموں نے اس اجلاس کی کامیابی سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔


































