
تحریر: آل محمد رزمی(مرحوم)
اپنی بقاء کی خاطر جب ہم سرگرم پیکار ہوئے
ہر جانب سے حملے ہم پر ہر جانب سے وار ہوئے
دین کے نام یہ دہشت گردی کس مسلک میں جائز ہے
فرقہ واریت کے آگے سب حربے بیکار ہوئے
پل پل کس نے ٹھوکر کھائی لمحہ لمحہ کون بکا
شہر کے اونچے نیچے رستے برسوں میں ہموار ہوئے
سیلابوں سے بچ نکلے تو گردابوں نے گھیر لیا
طوفانوں سے ڈرنے والے لوگ نہ دریا پار ہوئے
سب کو مظفر کرمانی ؒ کے لہو نے بڑھ کر دستک دی
خون شہیداں پوچھ رہا ہے لوگ نہ کیوں بیدار ہوئے
قوم کے نام شہیدوں کا پیغام بہت ہی واضح ہے
خارگلوں سے دور ہوئے تو اور ذلیل و خوار ہوئے
میرا یار شہید مظفر کرمانی ؒ اب خلد میں ہے
لیکن جان کے خوف سے دیکھو ریت کی ہم دیوار ہوئے
کون یہ بڑھ کر پوچھے رزمی دین کے ٹھیکیداروں سے
کتنی مانگیں تم نے اجاڑیں کتنے گھر مسمار ہوئے


































