
ترتیب و تنظیم: لیاقت علی انجم
یوں تو حزب اللہ نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد 8 اکتوبر سے جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک قابض صیہونی ریاست کے خلاف سینکڑوں کارروائیاں کی ہیں، لیکن "میرون” اڈے پر حملہ بہت سے اسٹریٹجک پہلوؤں کا حامل ہے، جو اسرائیل کیلئے ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ ہفتہ کی صبح لبنان کی اسلامی مزاحمت نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس نے "الجرمق” پہاڑ پر واقع "میرون” نامی صیہونی حکومت کے دو اہم فوجی اڈوں میں سے ایک کو 62 میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اس بلند پہاڑ کو مقبوضہ فلسطین میں صیہونی حکومت کا اہم ترین اسٹریٹجک مرکز سمجھا جاتا ہے۔
اور یہ شمالی محاذ بالخصوص مزاحمت کے ساتھ موجودہ جنگ میں اس حکومت کا اہم سکیورٹی اور فوجی کمانڈ سینٹر ہے۔ حزب اللہ نے اس حملے کو بیروت میں حماس کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ صالح العاروری کے قتل کے بدلے کی ابتدائی کارروائی قرار دیا ہے۔ صیہونی حکومت کے لیے فوجی، انٹیلی جنس اور دیگر اسٹریٹیجک سطح پر میرون بیس کی کیا اہمیت ہے اور حزب اللہ کی جانب سے اس اڈے کو نشانہ بنانے کا جنگی عمل پر کیا اثر پڑے گا؟ آیئے اس پر نظر ڈالتے ہیں۔
میرون اڈہ خطے میں الیکٹرانک جنگ کا مرکز
مرون اڈہ لبنان کے ساتھ مقبوضہ فلسطین کے آخری سرحدی مقام سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر رامش، یارون اور مارون الراس کے علاقوں کے سامنے واقع ہے اور یہ مقبوضہ فلسطین کے شمال میں المرق پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے۔ اس چوٹی کو مقبوضہ علاقوں میں سب سے اونچا پہاڑ سمجھا جاتا ہے۔ اس اڈے کی اونچائی سطح سمندر سے تقریباً 1200 میٹر تک ہے۔ یہ اڈہ ڈیڑھ لاکھ مربع میٹر پر محیط ہے۔ معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ اس اڈے کا زیادہ تر تعلق انٹیلی جنس اور جاسوسی کے شعبے سے ہے۔ "میرون” ایئر کنٹرول بیس مقبوضہ فلسطین کے شمال میں کوہ المرق کی چوٹی پر واقع ہے، جو کہ مقبوضہ فلسطین کی بلند ترین پہاڑی ہے۔
یہ اڈہ مقبوضہ فلسطین کا واحد فضائی کنٹرول اور انتظامی مرکز سمجھا جاتا ہے اور اس کے لیے کوئی اہم متبادل نہیں ہے۔ یہ اڈہ پوری مقبوضہ زمینوں کے دو اہم اڈوں میں سے ایک ہے۔ شمال میں میرون اڈہ اور مقبوضہ فلسطین کے جنوب میں "متسبیہ رامون” صیہونی حکومت کے 2 اہم اڈے ہیں۔ میرون بیس شام، لبنان، ترکی، قبرص اور بحیرہ روم کے مشرقی حصے کے شمالی حصے کی طرف تمام فضائی کارروائیوں کو مربوط اور منظم کرتا ہے۔ یہ اڈہ متذکرہ راستوں میں الیکٹرانک جیمنگ آپریشنز کا اہم مرکز بھی ہے اور صیہونی حکومت کے اعلیٰ افسران کی ایک بڑی تعداد اس اڈے میں کام کرتی ہے۔
امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک خصوصی ریسرچ گروپ کی طرف سے مہینوں پہلے شائع ہونے والی اور اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس اڈے سے سویلین جی پی ایس اور سیٹلائیٹ لہروں میں خلل ڈالنے کا کام بھی کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بعد میں ہونے والی ایک تحقیق میں پتہ چلا کہ خطے میں بعض طیاروں کی لوکیشن کے تعین میں پڑنے والے خلل کی بنیادی وجہ یہی اڈا تھا۔ عبرانی میڈیا رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد پہلے ہفتے میں سیٹلائٹ پوزیشننگ سسٹم مکمل طور پر ناکارہ ہوگیا تھا۔ کیونکہ اسرائیل کو خدشہ تھا کہ یہ سسٹم میزائل یا ڈرون حملوں یا دیگر ہتھیاروں کے ساتھ اسرائیلی اہداف کے خلاف استعمال ہوگا۔
لبنان اور شام کیخلاف صیہونی حکومت کی فضائی کارروائیوں کا ہیڈ کوارٹر
میرون بیس کا جغرافیائی محل وقوع بہت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ لبنان کے جغرافیہ کے ایک بڑے حصے پر براہ راست حاوی ہے۔ اس اڈے کو شامی سرحد پر بھی جغرافیائی برتری حاصل ہے۔ اس لیے لبنان اور شام کے خلاف صیہونی حکومت کی فضائی کارروائیوں کا ہیڈ کوارٹر تصور کیے جانے کے علاوہ، میرون اڈے نے حالیہ برسوں میں بڑی تعداد میں ڈرون آپریشنز کرکے دوہری اہمیت حاصل کر لی ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے شام اور لبنان سے معلومات اکٹھی کرنے کے لیے تقریباً روزانہ ڈرون استعمال کیے جانے کے بعد میرون اڈہ لبنان اور شام کے خلاف فضائی کارروائیوں کا مرکزی کمانڈ سنٹر بن گیا اور اس اڈے کی سب سے واضح خصوصیت انتہائی مشکل حالات میں بھی ڈرون اور اڈے کے مابین رابطہ برقرار رہنا ہے۔ میرون اڈے کے پاس موجود جاسوسی اور اسٹریٹیجک آلات کے علاوہ یہ صیہونی فوج کی فوجی کارروائیوں میں بھی سہولت فراہم کرتا ہے اور صیہونی حکومت کے زیادہ تر مواصلاتی آلات، کمانڈ رومز اور ریڈار مارون بیس میں موجود ہیں۔
میرون کی معلوماتی صلاحیتیں
لبنان کے جغرافیہ کی وسیع نگرانی کی وجہ سے مارون اڈہ لبنان کی طرف ہر قسم کے وائرلیس مواصلات کو حاصل کرنے اور نشر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے مارون اڈہ صیہونی حکومت کے لبنان میں اپنے جاسوسوں کے ساتھ رابطے کا ایک لازمی عنصر ہے۔ دوسری جانب بڑے بڑے کیمرے اور جدید نگرانی کے آلات اور لبنان اور مقبوضہ فلسطین کے درمیان سرحد کے ایک بڑے علاقے میں اس اڈے کا اسٹریٹجک محل وقوع اسرائیل کو سرحدی علاقوں سے تفصیلی معلومات اکٹھا کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
مارون بیس پر حزب اللہ کے بڑے حملے کی جہتیں اور تزویراتی اہمیت
مارون اڈے پر جدید ترین انٹیلی جنس اور نگرانی کا سامان موجود ہونے کے باوجود یہ اڈہ حزب اللہ کے حملے سے محفوظ نہیں رہا۔ اس سے قبل جولائی 2006ء کی جنگ کے دوران لبنانی مزاحمت نے مارون بیس کو متعدد بار راکٹ حملوں سے نشانہ بنایا تھا، لیکن ہفتے کے روز ہونے والے حملے سے اسرائیلیوں کو ہونے والے نقصانات صرف براہ راست نقصانات تک محدود نہیں ہیں۔ لبنانی مزاحمت، جس جنگ میں وہ 8 اکتوبر سے داخل ہوئی ہے، صیہونی حکومت کی پوزیشنوں کی نوعیت کے انتخاب میں بہت محتاط ہے۔ حزب اللہ جنوبی لبنان میں شہریوں کے خلاف قابض حکومت کی جارحیت کا جواب بھی "آنکھ کے بدلے آنکھ” کی مساوات کی بنیاد پر دیتی ہے۔
تاہم قابض حکومت کی جانب سے گذشتہ ہفتے بیروت میں جس عظیم جرم کا ارتکاب کیا گیا تھا، جس کے دوران حماس کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ صالح العاروری کو شہید کر دیا گیا تھا، جس کے بعد لبنانی مزاحمت نے اپنی کارروائیوں کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ حزب اللہ نے کل صیہونی حکومت کے میرون اسٹریٹجک اڈے کے خلاف جو آپریشن کیا، وہ بیروت کے جنوبی مضافات میں اس حکومت کے جرم کا ابتدائی ردعمل تھا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں حزب اللہ کے شدید حملوں کے نئے دور کا انتظار کرنا چاہیئے۔
صہیونیوں کیلئے دو برے اور بدتر آپشنز
صیہونی حکومت آج ایسی حالت میں ہے کہ مقبوضہ فلسطین کے شمال میں اس کا مرکزی اڈہ حزب اللہ کے براہ راست حملوں کی زد میں ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ حزب اللہ نے صیہونیوں کے خلاف جنگ کی فرنٹ لائن کو 8 کلومیٹر اندر تک بڑھا دیا ہے۔ نیز اس اڈے کو نشانہ بنانا، جو لبنان کے خلاف فضائی کارروائیوں کا مرکز ہے، اس جرم کا براہ راست جواب ہے، جو قابض حکومت نے بیروت کے اندر کیا ہے۔ اس لیے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حزب اللہ نے مقبوضہ علاقے کے اندر صیہونی حکومت کے 2 اہم ٹھکانوں میں سے ایک کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری طرف حزب اللہ کی اس کارروائی نے اسرائیلیوں کے سامنے دو اور مشکل آپشنز ڈال دیئے ہیں۔ اگر صیہونی اس حملے کے سامنے خاموش رہے تو یہ ان کے لیے بہت بڑی ذلت اور رسوائی ہے اور اگر وہ ردعمل کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نامعلوم اور لاتعداد نتائج ان کے منتظر ہوں گے۔
(بشکریہ تسنیم نیوز)


































