
تہران : ایران کے وزیر خارجہ امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ ہم واضح وژن کے بغیر امریکا سے مذاکرات نہیں کریں گے۔ امریکی ہمیں پیغامات بھیج رہے ہیں کہ براہ راست بات کریں۔ امریکیوں کے ثالثوں کو ہمارا آخری جواب یہ تھا کہ امریکا کے ساتھ کوئی بھی بات چیت، رابطہ یا گفت و شنید ہماری حکومت کو بہت مہنگی پڑے گی۔ ہم دیرپا ضمانت کے ساتھ اچھے معاہدے کے لیے واضح اور مضبوط وژن کے بغیر امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے عمل میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ویانا مذاکرات میں ہمارے لئے سب سے اہم بات مشترکہ ایٹمی معاہدے کی روشنی میں امریکا کی یکطرفہ اور ظالمانہ پابندیوں کا خاتمہ ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہاکہ ایرانی اور یورپی وفود میں ایک اہم اور نمایاں فرق دکھائی دیتا ہے ایرانی ٹیم ابتدا ہی سے مذاکرات میں منظم پروگرام اور منطقی اور اصولی اہداف کی روشنی میں حاضر ہوئی ہے۔ جبکہ دوسرے فریق میں سنجیدہ اقدام کا فقدان ہے۔ یورپی وفود کو پابندیاں ہٹانے کے خواہاں نہیں بلکہ وہ پرامن ایٹمی پروگرام سے اپنے خدشات دور کرنا چاہتے ہیں۔


































