
ایران کے چیف آف آرمی اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے کہاہے کہ غاصب صیہونی فوج نے اگرچہ لبنان اور غزہ میں عام شہریوں کے خلاف انسان سوز جرائم انجام دینے میں تمام حدیں پار کر دی ہیں لیکن وہ اپنا اعلان کردہ کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کر پائی ہے۔ فوجی کمانڈرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل محمد باقری نے کہا کہ غاصب صیہونی رژیم جرائم پیشہ امریکی حکمرانوں کی بھرپور اور ہمہ جہت فوجی اور سیاسی حمایت کے سائے تلے، جنگ پھیلانے اور خطے کی سلامتی تباہ کرنے کی غرض سے تمام تر بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مظلوم فلسطینی قوم اور لبنانی شہریوں کی نسل کشی اور قتل عام میں مصروف ہے اور انہیں اپنے گھروں سے جلاوطنی پر مجبور کر رکھا ہے جبکہ نام نہاد انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے مجرمانہ حد تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ میجر جنرل محمد باقری نے مزید کہا کہ لبنان کے خلاف جنگ سے ان کا اہم ترین مقصد مقبوضہ فلسطین کے شمالی حصے میں یہودی آبادکاروں کو تحفظ اور سیکورٹی فراہم کرنا تھا لیکن نہ صرف ان کی یہ آرزو پوری نہیں ہو سکی بلکہ حیفا اور تل ابیب جیسے بڑے شہر بھی عدم تحفظ اور ناامنی کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایران کے چیف آف آرمی اسٹاف نے گذشتہ ماہ ایران پر اسرائیلی جارحیت اور اس کے نتیجے میں چار فوجیوں کی شہادت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکمرانوں نے اس اقدام کے ذریعے ایران کی ریڈ لائن سے عبور کیا ہے اور انہیں جان لینا چاہیے کہ ایران کی مسلح افواج اخلاق اور اسلامی تعلیمات کے دائرے میں رہتے ہوئے اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق اپنی قومی سلامتی اور ملکی سالمیت کے تحفظ کی خاطر جارح قوتوں ایسا جواب دیں گی جس سے وہ پچھتانے پر مجبور ہو جائیں گی۔ میجر جنرل محمد باقری نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہر گز اپنی سرزمین پر جارحیت برداشت نہیں کرے گا اور اس کا جواب دینے سے چشم پوشی اختیار نہیں کرے گا اور ضرور مناسب ردعمل ظاہر کیا جائے گا.


































