
تہران: ولی امر المسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے عید نوروز اور نئے ایرانی سال کے آغاز کے موقع پر براہ راست خطاب کرتے ہوئے پوری ایرانی قوم اور نوروز منانے والی دیگر اقوام کو مبارک باد پیش کی۔ اپنے خطاب میں آپ نے کہا کہ ایک اور سال فطری طور پر پائی جانے والی اپنی تمام تر تلخیوں، شیرنیوں اور نشیب و فراز کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ آپ نے گزشتہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات کو گزرے ہوئے سال کا اہم ترین واقعہ قرار دیا اور کورونا کی وبائی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ کورونا کی شدت کے باوجود، لوگ پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچے اور ووٹ دیا یہ بہت اہم ہے۔ آپ نے کورونا ویکسین کی تیاری کو سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ملک کا اہم ترین کارنامہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ گزشتہ سال ملک میں کئی طرح کی ویکسین کی تیاری، جن میں سے بعض کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا؛ اور مختلف سائنسی و تکنیکی کامیابیاں، ویکسین سے لے کر سیٹلائٹ تک، غرض تمام میدانوں میں بحمد اللہ ملک نے اہم کام انجام دیے۔
عالمی میدانوں میں بھی ایسا ہی تھا۔ سنہ 1400 کے سب سے اہم شیریں واقعات میں سے ایک یہ تھا کہ امریکیوں نے ابھی حال ہی میں اعتراف کیا، اپنی زبان سے اقرار کیا کہ ایران کے خلاف شدید ترین دباؤ میں، انھیں ذلت آمیز شکست ہوئی ہے۔ "ذلت آمیز” کا لفظ خود امریکیوں نے استعمال کیا ہے۔ یہ بڑا اہم واقعہ ہے۔ ایرانی قوم، فاتح رہی۔ ایرانی قوم کو یہ توفیق حاصل ہوئی۔ کوئی بھی اکیلے اس کا کریڈٹ نہیں لے سکتا۔ پوری ایرانی قوم کی استقامت اس بڑی فتح پر منتج ہوئی۔ بہت سے دوسرے واقعات بھی رونما ہوئے۔ خواہ ہمارے قریب ہوں یا دور ہوں۔ ان سارے واقعات نے، سامراج کے مقابلے میں ایرانی قوم کے راستے کی درستگی کو ثابت کیا۔ تو یہ شیریں باتیں تھیں۔
آپ نے مزید کہا کہ اس سال کچھ تلخ تجربات بھی رہے، اس میں عوام کی معاشی تنگی، مہنگائي، افراط زر اور اسی طرح کی چیزیں تھیں جن کا یقینی طور پر علاج ہونا چاہیے۔ اور ہمیں امید ہے کہ اس سال ان میں سے کچھ برطرف ہو جائيں گے۔ یہ سارے مسائل یکبارگی ایک ساتھ ختم نہیں ہو سکتے، بتدریج ختم ہوں گے۔ یہ بات حقیقت پسندانہ نہیں ہے کہ انسان جلد بازی کرے اور کہے کہ جی نہیں، فوری طور پر انھیں دور ہونا چاہیے۔ ان شاء اللہ ہمیں امید ہے کہ ان میں سے بعض مسائل، سنہ 1401 میں جو صدی، ہجری شمسی صدی کا پہلا سال بھی ہے، ان شاء اللہ برطرف ہو جائيں گے۔
پچھلے برسوں میں ہم نے ہر سال، سال کے نعرے کے نام سے ایک عنوان پیش کیا تاکہ عہدیداران، خاص طور پر حکومت اور اس کے ذیل میں مقننہ اور عدلیہ اور اسی طرح عوام، جہاں تک عوام سے براہ راست تعلق ہوتا ہے، اس سمت میں آگے بڑھیں۔ کچھ برسوں میں اس سلسلے میں اچھی کامیابیاں حاصل ہوئيں۔ سنہ 1400 میں ہم نے پیداوار، حمایت اور رکاوٹوں کے ازالے کا نعرہ دیا تھا۔ بڑی حد تک اچھے کام انجام پائے جو اب بھی جاری ہیں اور انھیں آئندہ بھی جاری رہنا چاہیے۔ ان کچھ برسوں میں حقیر نے سال کے نعرے کے لیے کسی ایک شرط اور صفت کے ساتھ زیادہ تر ‘پیداوار’ پر زور دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیداوار، ملک کے معاشی مسائل کے حل کی کنجی ہے۔
اس سال بھی میں پیداوار پر ہی تاکید کرنا چاہتا ہوں، البتہ پیداوار کا ایک نیا پہلو اور ایک نیا چہرہ پیش کرنا چاہتا ہوں اور وہ اس پیداوار سے عبارت ہے جس میں دو خصوصیات ہوں: ایک یہ کہ روزگار پیدا کرنے والی ہو، دوسرے یہ کہ نالج بیسڈ ہو۔ نالج بیسڈ پیداوار ہو اور سائنس، ماڈرن سائنس پر منحصر ہو، سائنسی پیشرفت پر استوار ہو اور ایسی پیداوار ہو جو روزگار پیدا کرے۔ بنابریں اس سال ہمارا نعرہ ہے: ‘روزگار پیدا کرنے والی نالج بیسڈ پیداوار’۔ یہ پیداوار ہے۔


































