
ڈھاکا: بنگلادیش میں ایک بار پھر پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے۔ پولیس سے جھڑپوں میں بیس سے زائد افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔ بنگلادیش میں کوٹا سسٹم اور امتیازی سلوک کے خلاف طلبا کی تحریک اب سول نافرمانی کی تحریک میں تبدیل ہوگئی ہے۔ دارالحکومت ڈھاکا میں ایک بار پھر ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور وزیراعظم حسینہ واجد سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ پولیس کی مداخلت سے احتجاج پرتشدد ہوگیا اور مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ منشی گنج۔ رنگ پور۔ پبنا۔ سراج گنج ۔ کومیلا ۔ ماگورا اور بریسال میں خونی جھڑپیں ہوئیں جہاں پولیس فائرنگ سے مظاہرین مارے گئے۔ کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات بھی ہوئے۔ متعدد تھانوں اور دو ارکان اسمبلی کے مکانات کو جلادیا گیا۔ مظاہرین نے درجنوں گاڑیوں ۔ موٹرسائکلوں کو آگ لگادی۔


































