
راولپنڈی : پاکستان میں حالیہ فسادات میں گرفتار افراد کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ فوجی عدالتیں آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم کی جائیں گی۔ ملٹری کورٹس کا سربراہ کم سے کم کرنل‘ بریگیڈئراور زیادہ سے زیادہ میجر جنرل کے عہدے کا فوجی افسر ہو گا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اعلیٰ عدالتوں کو بھی فوجی عدالتوں کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرنے دی جائیگی۔ آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمات رجسٹر یہ عدالتیں کریں گی۔ متعلقہ فوجی افسر اس بارے میں باقاعدہ شکایت دائر کریگا۔ ملٹری کورٹس اس بات کو بھی زیر غور رکھے گی کہ جناح ہاؤس لاہور (کور کمانڈرز ہاؤس) کے اندر انتہائی ٹاپ سیکرٹ ڈاکومنٹس موجود تھے‘ حتیٰ کہ ضابطہ اخلاق اور قواعد و ضوابط کے مطابق ضلع کے ڈپٹی کمشنر‘ ڈویژنل کمشنر کی رہائشگاہ پر 24 گھنٹے پہرہ اسلئے لگایا جاتا ہے کیونکہ ڈپٹی کمشنر ہاؤس‘ کمشنر ہاؤس وغیرہ میں ٹاپ سیکرٹری ڈاکومنٹ ہوتے ہیں جن میں وار بک جیسی انتہائی اہم کتاب سیف اور لاکرز میں محفوظ رکھی جاتی ہے۔ یہ وار بک جنگ یا اندرونی خلفشار کی صورت میں اسے کھول کر متعلقہ عہدیدار ضروری احکامات جاری کرتے ہیں۔


































