
ابوظہبی : عرب امارات نے ڈالر کمانے کیلئے شریعت محمدی کو پامال کرتے ہوئے زنا اور شراب نوشی کو جائز قرار دے دیا۔ حکومت نے اصلاحات کے تحت 40 قوانین میں تبدیلیاں کی ہیں۔ نئے فوجداری قوانین جنوری سے نافذ العمل ہوں گے اور انہیں خلیجی ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی قانونی اصلاح قرار دیا جارہا ہے۔ نئے قوانین میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات کو جرائم کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ نئے قانون کے تحت شادی کے بغیر حمل رکھنے والے جوڑے کے لیے شرط ہوگی کہ وہ شادی کریں یا اکیلے یا پھر دونوں مشترکہ طور پر بچے کو تسلیم کریں اور اُن میں سے جو کوئی بھی شہری ہو وہ ملکی قوانین کے مطابق بچے کی شناختی اور سفری دستاویزات فراہم کرے۔ اگر والدین بچے کو تسلیم نہیں کرتے اور اس کی دیکھ بھال نہیں کرتے تو ان پر فوجداری مقدمہ چلایا جائے گا جس کی سزا دو سال قید ہوسکتی ہے۔ عرب امارات نے شراب نوشی کو بھی جرائم کی فہرست سے نکال دیا ہے۔ قانونی اصلاحات کا مقصد سعودی ماڈرن ازم کا مقابلہ کرنا، غیر ملکی عیاش سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی اور زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ حاصل کرنا ہے۔ یو اے ای سعودی عرب سے مقابلے کے لیے قانونی نظام میں اصلاحات کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس کے پڑوسی سعودی عرب نے غیر ملکی سرمایہ کاری اور نئے ٹیلنٹ کے لیے اپنے ملک کے دروازے کھول دیے ہیں۔


































