
واشنگٹن : امریکا نے افغانستان کے منجمد 7 ارب ڈالر میں سے نصف اثاثے ہڑپ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان کے منجمد اثاثوں سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے۔ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت افغانستان کی 7 ارب ڈالرز کی منجمد رقم جاری کی جائے گی اوریہ رقم کنسولیڈیڈٹ اکاؤنٹ میں منتقل کرنا ہوگی۔ منجمد اثاثوں میں سے نصف یعنی ساڑھے تین ارب ڈالر نائن الیون متاثرین کے ازالے کیلئے مختص کیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا آنے والے مہینوں میں ایک ٹرسٹ فنڈ قائم کرے گا جس کا مقصد اس رقم میں سے 3.5 ارب ڈالرز کے فنڈز افغان عوام کی مدد کیلئے استعمال کرنا ہے ۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کا مقصد افغان عوام کو فائدہ پہنچانا ہے، اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ منجمد افغان فنڈز کے منصوبوں پر بات چیت کی ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو میں افغان سینٹرل بینک کے 7ارب ڈالرز کے اثاثے موجود ہیں جو سابق افغان صدر اشرف غنی کی حکومت کے خاتمے پر امریکی حکومت نے منجمد کردیے تھے۔


































