
اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے مشیر قومی سلامتی جیک سولیوین نے پاکستانی ہم منصب کو فون کرکے واضح طور پر کہا کہ عمران خان روس کے دورے پر نہ جائیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بتایا جائے کہ کہاں ہوتا ہے کہ ایک خود مختار ملک کو باہمی دورے سے روکا جائے، کون سی خودمختار اور خوددار قوم یہ قبول کرتی ہے۔ کہا گیا کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو پاکستان کو تنہا کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب ماسکو کے دورے کا فیصلہ کیا گیا اس کا یوکرین کی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں تھا، 2 ماہ سے یہ سلسلہ جاری تھا بالکل آخر دعوت آئی اور وزیراعظم نے جانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دورے سے قبل مشاورت کی گئی، دیکھا گیا کہ اس کا کیا فائدہ ہوگا، اس کے پسِ پردہ پاکستان کی بہتری تھی، اس وقت یوکرین کی صورتحال سامنے نہیں آئی تھی اور فوجی چڑھائی نہیں ہوئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ میں ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ ہم نے مشاورت کے لیے سابقہ سیکریٹریز خارجہ، سفارتکاروں، دانشوروں اور میڈیا کو بلایا اور بات کی کہ جائیں تو کیا فائدہ کیا نقصان ہوگا پھر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت سے فیصلہ کیا گیا کہ اس باہمی دورے کو جاری رکھنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان چھوٹا صحیح ایک خودمختار ملک ہے، آپ شاید اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ کر کے غلامی کا طوق قبول کرنا چاہتے ہوں، ہم نہیں چاہتے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ کیا قوم کو آزاد خارجہ پالیسی چاہیے یا ماضی کی طرح چیونٹیوں کی طرح رینگنا ہے۔ تاریخ ناٹک رچانے والوں کو بے نقاب کرے گی۔


































