Fri Oct 16, 2026

ایران کیخلاف جنگ یورپ کو 100 ارب یورو سے زائد میں پڑ گئی، اسپین کے وزیرِاعظم کا بڑا انکشاف نیتن یاہو کیخلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، ناوے پلے سعودی ایئرپورٹس پر یمنی حملوں میں 19 افراد ہلاک، 364 زخمی آذربائیجان میں اجلاس، اسرائیلی صدر کی تقریر کے دوران 12 ممالک کا واک آؤٹ ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے

روزانہ کی خبریں

امریکی مشیر قومی سلامتی نے فون کرکے کہا عمران خان روس کے دورے پر نہ جائیں، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے مشیر قومی سلامتی جیک سولیوین نے پاکستانی ہم منصب کو فون کرکے واضح طور پر کہا کہ عمران خان روس کے دورے پر نہ جائیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بتایا جائے کہ کہاں ہوتا ہے کہ ایک خود مختار ملک کو باہمی دورے سے روکا جائے، کون سی خودمختار اور خوددار قوم یہ قبول کرتی ہے۔ کہا گیا کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو پاکستان کو تنہا کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب ماسکو کے دورے کا فیصلہ کیا گیا اس کا یوکرین کی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں تھا، 2 ماہ سے یہ سلسلہ جاری تھا بالکل آخر دعوت آئی اور وزیراعظم نے جانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دورے سے قبل مشاورت کی گئی، دیکھا گیا کہ اس کا کیا فائدہ ہوگا، اس کے پسِ پردہ پاکستان کی بہتری تھی، اس وقت یوکرین کی صورتحال سامنے نہیں آئی تھی اور فوجی چڑھائی نہیں ہوئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ میں ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ ہم نے مشاورت کے لیے سابقہ سیکریٹریز خارجہ، سفارتکاروں، دانشوروں اور میڈیا کو بلایا اور بات کی کہ جائیں تو کیا فائدہ کیا نقصان ہوگا پھر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت سے فیصلہ کیا گیا کہ اس باہمی دورے کو جاری رکھنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان چھوٹا صحیح ایک خودمختار ملک ہے، آپ شاید اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ کر کے غلامی کا طوق قبول کرنا چاہتے ہوں، ہم نہیں چاہتے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ کیا قوم کو آزاد خارجہ پالیسی چاہیے یا ماضی کی طرح چیونٹیوں کی طرح رینگنا ہے۔ تاریخ ناٹک رچانے والوں کو بے نقاب کرے گی۔

مزید پڑھیے

Most Popular