Fri Oct 09, 2026

مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی

روزانہ کی خبریں

امریکا کی عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور جاپانی جج ٹوموکو اکانے پر پابندیاں عائد

واشنگٹن: امریکا نے عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور جاپانی جج ٹوموکو اکانے پر پابندیاں عائد کر دیں۔
امریکی انتظامیہ نے عدالت پر امریکی اور اسرائیلی حکام کے خلاف کارروائی کرکے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے الزام عائد کیا کہ دونوں عہدیدار ایسے ممالک کے حکام کے خلاف تحقیقات اور کارروائی میں ملوث رہے ہیں جنہوں نے عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کیا۔ امریکا نے عالمی فوجداری عدالت کو بدعنوان اور سیاسی طور پر جانبدار ادارہ قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کی کوششیں جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور سینیگال سے تعلق رکھنے والے سینئر ٹرائل وکیل عبداللّٰہ پر پابندی عائد کی ہے۔
سینئر ٹرائل وکیل اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے وارنٹِ گرفتاری کی درخواست کرنے والی استغاثہ کی ٹیم میں شامل تھے۔
دوسری جانب جاپان نے عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور سینئر ٹرائل وکیل پر امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا ہے۔
جاپانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے جاپان مستقل طور پر عالمی فوجداری عدالت کی حمایت کرتا ہے تاکہ وہ عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث بننے والے سنگین ترین جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمات چلانے اور انہیں سزا دلانے کی کوششیں جاری رکھ سکے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کر دیے جاتے ہیں اور امریکی مالیاتی نظام تک ان کی رسائی بھی محدود ہو جاتی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان تازہ پابندیوں پر آئی سی سی کی صدر ٹوموکو اکانے کا فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم ماضی میں انہوں نے امریکی پابندیوں اور دباؤ کے خلاف عدالت کی آزادی کا دفاع کیا تھا۔
خیال رہے کہ امریکا عالمی فوجداری عدالت کا رکن نہیں ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular