
نئی دہلی : امریکی اور مغربی انتباہ کے باوجود بھارت نے روس سے تیل کی خریداری جاری رکھی ہوئی ہے، جس پر امریکا نے ناراضی کا اظہار کیا ہے، سرکاری انڈین آئل کارپوریشن نے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسی ہفتے روس سے 30 لاکھ ڈالرکا خام تیل خریدا ہے۔ ایک حکومتی اہلکار نے اس سودے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نئی دہلی حکومت نے روس سے خریداری پر پابندی نہیں لگائی ہے۔ بھارت پر مغربی ملکوں کا کافی دباؤ ہے کہ وہ روس سے تیل نہ خریدے۔ دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاؤس جین ساکی نے کہا ہے کہ اگرچہ روس سے سستے داموں تیل خریدنا امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں تاہم ایسا کرنا بھارت کو تاریخ کے غلط سائڈ پر کھڑا کردے گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرے کہ وہ کہاں اور کس کے ساتھ کھڑا ہے.


































