
اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی کے اختتامی اجلاس کے بعد سیکریٹری جنرل او آئی سی حصین براہیم طحہ کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس میں بتایا کہ 48 ویں اجلاس میں وزارتی سطح پر 46 اور 800 کے قریب وفود نے شرکت کی، جس پر ہم سیکریٹری جنرل او آئی سی اور او آئی سی سیکرٹریٹ کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ او آئی سی اجلاس میں پہلی بار کسی بھی چینی وزیر خارجہ کی شرکت ہوئی جو تمام ممالک کے لیے باعث افتخار اور تسلی کا سبب بھی بنی۔ شاہ محمد قریشی نے کہا کہ اجلاس میں مسلم دنیا کو اسلامی ممالک سے تعلقات بڑھائے کا پیغام دیا اور بی آر آئی کا حصہ بننے والے ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا.انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں اس فورم کی اہمیت کو اجاگر کیا، اس فورم کو مزید فعال بنانے کے لیے اتحاد کی ضرورت ہے، بطور چیئرمین وزرائے خارجہ کونسل میں اس فورم کو دوبارہ مرکزیت میں لانے اور اتحاد مضبوط بنانے کی کوشش کروں گا اور مختلف چیلنجز میں پل بن کر انہیں حل کرنے کی کوشش کروں گا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جموں و کشمیر پر متعدد قراردادوں اور اوآئی سی کی واضح حمایت کے باوجود یہ مسئلہ ابھی بھی حل طلب ہے، اسی طرح فلسطین میں بھی قبضہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں و مظالم جاری ہیں، ہم دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر قراردادوں سے آگے عملدرآمد کی جانب جائیں گے، ہم مل کر عملدرآمد کے حوالے سے ایکشن پلان بنائیں گے، دسمبر کے اجلاس میں او آئی سی میں ہمارا مقصد واضح تھا کہ افغانستان میں انسانی صورتحال پر عالمی توجہ دلائی جائے اور ہم اس میں کامیاب رہے، نہ صرف افغانستان پر پابندیاں نرم کی گئیں بلکہ فنڈ بھی قائم کیا گیا۔


































